اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں شہری پیر کو اپنے نئے صوبائی حکمرانوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں کولیشن ایونیر کیوبیک کی رہنما کرسٹین فریشیٹ نے حکومتی ترجیحات، صوبے کی خودمختاری، معیشت، مہنگائی، امیگریشن اور انگریزی بولنے والی آبادی کے حقوق سمیت مختلف معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔
انتخابی دباؤ
حالیہ انتخابی جائزوں میں کولیشن ایونیر کیوبیک چوتھے نمبر پر دکھائی دے رہی ہے، جبکہ بعض نشستوں کے تخمینوں میں پارٹی کے ایک بھی نشست حاصل نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
فریشیٹ نے انتخابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے معاشی معاملات کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبیک کے شہریوں کو اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے کہ اگر پارتی کیوبیکوا اقتدار میں آتی ہے تو وہ ریفرنڈم کرانے کی کوشش کرے گی۔
ریفرنڈم کا معاملہ
فریشیٹ کے مطابق پارتی کیوبیکوا کی حکومت صوبے کی خودمختاری سے متعلق ریفرنڈم کے لیے 2029 میں اقدام کر سکتی ہے، جو ان کے بقول کیوبیک کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس میں تقریباً ڈھائی سال کا عرصہ باقی ہوگا، تاہم اس قسم کی صورتحال معاشی اعتبار سے منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق وہ اسی معاملے سے متعلق کیوبیک کے شہریوں کو آگاہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ووٹ دیتے وقت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھیں۔
مہنگائی اور روزگار
فریشیٹ نے کہا کہ ان کی جماعت کی توجہ شہریوں کی ترجیحات پر مرکوز رہے گی، جن میں زندگی گزارنے کے اخراجات کم کرنا، کاروباری اداروں اور کارکنوں کا تحفظ، فرانسیسی زبان اور کیوبیک کی شناخت کا تحفظ اور عوامی خدمات میں بہتری شامل ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں معیشت اور شہریوں کی روزمرہ ضروریات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
کینیڈا کے ساتھ تعلق
کیوبیک کی کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے فریشیٹ نے کہا کہ ان کی جماعت کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے کیوبیک کے اختیارات میں اضافہ چاہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کیوبیک کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنا چاہتی ہے اور موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون ضروری ہے۔
فریشیٹ نے کہا کہ ان کی حکومت نے وزیراعظم مارک کارنی کی وفاقی حکومت کے ساتھ متعدد معاہدے کیے ہیں اور مستقبل میں بھی اس تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
شمالی امریکی معاہدہ
فریشیٹ نے کہا کہ انہیں قلیل مدت میں شمالی امریکی معاہدے پر پیش رفت کے امکانات نظر نہیں آتے، اس لیے موجودہ حالات میں کیوبیک اور کینیڈا کے درمیان تعاون اور اتحاد مزید اہم ہو جاتا ہے۔ان کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال میں مختلف حکومتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں :کیوبیک انتخابات: بڑی جماعتوں کے انکار کے بعد انگریزی زبان کا مباحثہ منسوخ
انگریزی بولنے والی آبادی
انگریزی بولنے والی آبادی کے حوالے سے فریشیٹ نے کہا کہ ان کی جماعت اس کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعاون کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگریزی بولنے والی کمیونٹی کے ساتھ طویل عرصے سے تعلق موجود ہے اور ان کی جماعت اس کے لسانی حقوق اور اپنی زبان میں خدمات حاصل کرنے کے حقوق کا احترام کرنا چاہتی ہے۔
فریشیٹ نے کیوبیک میں انگریزی بولنے والی آبادی کی خدمات اور ترقی میں کردار کو بھی سراہا، خصوصاً بڑے شہری علاقے اور تعلیمی شعبے میں اس کی کاوشوں کا ذکر کیا۔
امیگریشن پالیسی
امیگریشن کے سابق صوبائی وزیر کی حیثیت سے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے فریشیٹ نے کہا کہ امیگریشن پالیسی انسانوں سے متعلق معاملہ ہے اور اسے ہمدردی اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیوبیک میں مستقل امیگریشن کی موجودہ حد 45 ہزار افراد ہے اور ان کی جماعت اس حد کا احترام کرے گی۔
ان کے مطابق پارتی کیوبیکوا مستقل امیگریشن کی حد 35 ہزار افراد تک محدود کرنا چاہتی ہے، جس سے صوبے کے مختلف علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
رہائش اور فرانسیسی زبان
فریشیٹ نے کہا کہ امیگریشن کے ساتھ رہائش کا مسئلہ بھی حل کرنا ضروری ہے، کیونکہ نئے آنے والے افراد مناسب قیمت پر دستیاب رہائش تلاش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کو کیوبیک معاشرے میں ضم کرنے کے لیے فرانسیسی زبان کی تعلیم بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں فرانسیسی زبان کی کلاسز حاصل کرنے والے افراد کی تعداد تین گنا کی جا چکی ہے، اور مستقبل میں بھی انضمام کے عمل کو اہمیت دی جائے گی۔
نئی قیادت
فریشیٹ نے بتایا کہ کولیشن ایونیر کیوبیک کو اب ٹیم کرسٹین فریشیٹ کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سابق وزیراعظم فرانسوا لیگولٹ سے اپنی قیادت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مختلف نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا قیادت کا انداز بھی مختلف ہے۔ان کے مطابق وہ فیصلے کرنے سے پہلے لوگوں کو متحد کرنے، تعاون کرنے اور مشاورت پر یقین رکھتی ہیں۔
پانچ ماہ کی کارکردگی
فریشیٹ نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ان کی قیادت کو عملی طور پر آزمایا گیا اور اس عرصے میں متعدد قوانین منظور کیے گئے، کئی اقدامات شروع کیے گئے اور وفاقی حکومت کے ساتھ پانچ معاہدے کیے گئے۔
انہوں نے ڈاکٹروں کے ساتھ معاہدوں اور نیوفاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور کے ساتھ توانائی کے تحفظ سے متعلق 50 سالہ معاہدے کا بھی ذکر کیا۔
فریشیٹ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے انہوں نے حکومت چلانے کی اپنی صلاحیت ثابت کی ہے اور اب وہ چاہتی ہیں کہ کیوبیک کے شہری انہیں مزید کام جاری رکھنے کا موقع دیں۔
