اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں خالی بوتلیں اور مشروبات کے ڈبے واپس کرکے رقم حاصل کرنے کے نظام میں گزشتہ تین برسوں کے دوران بڑی تبدیلی آئی ہے۔
نئی کمپنی Consignaction نے صوبائی حکومت کی مدد سے بوتلوں اور ڈبوں کی واپسی کے نظام کو مرکزی شکل دی، تاہم نئے نظام کو صارفین اور ماہرین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے۔ بعض افراد اسے پرانے نظام سے زیادہ آسان قرار دیتے ہیں، جبکہ کئی صارفین طویل قطاروں، مشینوں کی خرابی اور محدود مراکز کی شکایت کر رہے ہیں۔
پرانا نظام بدل گیا
کیوبیک میں پہلے شہری خالی بوتلیں اور مشروبات کے ڈبے ہزاروں دکانوں، گروسری اسٹورز اور دیگر کاروباری مراکز پر واپس کرسکتے تھے۔
ان میں سے متعدد مقامات گھروں کے قریب اور پیدل فاصلے پر موجود تھے، تاہم نئے نظام کے تحت بڑی تعداد میں پرانے ریٹرن پوائنٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔
اب صارفین بنیادی طور پر دو اقسام کے مراکز استعمال کرتے ہیں۔ Consignaction مراکز ان افراد کے لیے ہیں جو بوتلیں اور ڈبے ایک ایک کرکے واپس کرتے ہیں، جبکہ Consignaction+ مراکز بڑی تعداد میں خالی کنٹینرز واپس کرنے والوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔
صرف 172 مراکز
نئے نظام کے پہلے مرحلے کے آغاز کے بعد صوبے بھر میں اب تک 172 Consignaction مراکز کھولے جا چکے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کیوبیک کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
کیوبیک کامن فرنٹ فار ایکولوجیکل ویسٹ مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاریل مینارڈ کے مطابق پہلے صوبے میں تقریباً سات سے آٹھ ہزار ایسے مقامات موجود تھے جہاں بوتلیں اور ڈبے واپس کیے جاسکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پرانا نظام مکمل طور پر مثالی نہیں تھا، لیکن شہریوں کے پاس زیادہ اختیارات موجود تھے، جبکہ اب بوتلوں اور ڈبوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود واپسی کے مراکز کی تعداد ہزاروں سے کم ہو گئی ہے۔
طویل قطاروں کی شکایت
نئے نظام کے خلاف سب سے بڑی شکایت طویل قطاریں ہیں۔ماہرین کے مطابق مرکزی علاقوں میں قائم محدود مراکز پر صارفین کی بڑی تعداد پہنچنے سے انتظار کا وقت بڑھ جاتا ہے۔
مونٹریال کے روزمونٹ لا پیٹیٹ پاتری علاقے میں Consignaction مرکز استعمال کرنے والی ایک صارف میری کلاڈ کے مطابق بعض دنوں میں بوتلیں واپس کرنے کے لیے دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورے علاقے کے لیے صرف دو مشینیں کافی نہیں، جس کے باعث شہریوں کو طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
مشینیں بھی مسئلہ
صارفین نے مشینوں کی خرابی کی شکایت بھی کی ہے۔ان کے مطابق بعض اوقات دو میں سے ایک مشین خراب ہوجاتی ہے، جس کے باعث باقی صارفین کا بوجھ دوسری مشین پر منتقل ہو جاتا ہے اور قطار مزید لمبی ہوجاتی ہے۔
کچھ صارفین نے یہ بھی بتایا کہ بعض مشینیں نقد رقم فراہم نہیں کرتیں، جبکہ الیکٹرانک طریقے سے ریفنڈ حاصل کرنے میں کئی دن یا بعض صورتوں میں ہفتوں کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
کمپنی کا جواب
Consignaction کا کہنا ہے کہ وہ صارفین اور کاروباری اداروں کی شکایات اور تجاویز کو سن رہی ہے۔
کمپنی کے نائب صدر برائے حکمت عملی ژاں فرانسوا لیفورٹ کے مطابق یہ پورا نیٹ ورک صرف دو برس سے کچھ زیادہ عرصہ قبل وجود میں آیا ہے، اس لیے منتقلی کے مرحلے میں بعض تکنیکی اور انتظامی مشکلات سامنے آنا غیر معمولی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی مسائل کو جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مزید مراکز کھولنے سے طویل قطاروں کا مسئلہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
Consignaction+ مراکز پر عملہ بھی موجود ہوتا ہے، جو صارفین کو بوتلیں واپس کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور مشینوں میں خرابی کی صورت میں معاونت کرتا ہے۔
کین جمع کرنے والے متاثر
نئے نظام سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو کوڑے دانوں اور عوامی مقامات سے خالی بوتلیں اور ڈبے جمع کرکے رقم کماتے ہیں۔
انہیں عام طور پر ’’بنرز‘‘ کہا جاتا ہے اور ان میں بے گھر یا کم آمدنی والے افراد بھی شامل ہوتے ہیں، جو روزانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بوتلوں اور ڈبوں کے ریفنڈ پر انحصار کرتے ہیں۔
Les Valoristes Co-op سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں مشینوں کے نقد رقم ختم ہونے کا مسئلہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مشکل پیدا کرتا ہے۔
نقد رقم کی ضرورت
تنظیم کی شریک بانی ماریسا وازکیز ٹیگلیرو کے مطابق ایسے افراد روزانہ بوتلیں اور ڈبے جمع کرتے ہیں اور انہیں روزانہ نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مشین میں رقم موجود نہ ہو تو صارفین کو اضافی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جو ان لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے جنہوں نے رات بھر بوتلیں جمع کی ہوں۔
Consignaction کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں صارفین موبائل ایپ کے ذریعے رقم حاصل کرسکتے ہیں یا انہیں قابل استعمال کوپن دیا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر کسی مرکز کی مشین خراب ہو تو کوپن کو دوسرے مراکز پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کچھ صارفین خوش
دوسری جانب تمام صارفین نئے نظام سے ناخوش نہیں۔بعض افراد کا کہنا ہے کہ مخصوص بوتل ریٹرن مراکز پر جانا گروسری اسٹورز کے اندر نصب پرانی مشینوں کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔
جوزف گونزالیز نامی صارف اور ان کے شریک حیات نے بتایا کہ انہوں نے مقامی گروسری اسٹور کے بجائے قریبی Consignaction+ مرکز استعمال کرنا شروع کیا اور ان کا تجربہ مثبت رہا۔
ان کے مطابق گروسری اسٹورز میں مشینیں اکثر خراب ہوجاتی تھیں اور مدد کے لیے عملہ بھی موجود نہیں ہوتا تھا، جبکہ مخصوص مراکز میں صارفین کو بہتر معاونت حاصل ہوتی ہے۔
2027 تک توسیع
کیوبیک حکومت نے Consignaction کو مارچ 2027 تک کم از کم 400 مخصوص بوتل واپسی مراکز اور 800 جدید ریٹرن پوائنٹس کھولنے کا ہدف دیا ہے۔
مارچ 2027 نئے نظام کے آخری مرحلے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن بھی ہے۔اس مرحلے میں شیشے کی تمام بوتلوں، جن میں وائن اور اسپرٹ بوتلز شامل ہیں، کے علاوہ دودھ اور جوس کے کارٹن بھی ڈپازٹ اور ریفنڈ نظام میں شامل کیے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیوبیک کا نیا نظام بوتلوں اور ڈبوں کی ری سائیکلنگ کو جدید بنانے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اور کمپنی شہریوں کی رسائی، مشینوں کی کارکردگی اور طویل قطاروں جیسے بنیادی مسائل کو کس حد تک حل کرتی ہیں۔
