یورپ ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے پر تیار، جی7 کا 10 کروڑ بیرل کا فیصلہ،ٹرمپ کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک اپنے ذخائر میں موجود بڑی مقدار میں ڈیزل مارکیٹ میں جاری کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈی میں ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق یورپ سے ڈیزل کی فراہمی فوری طور پر شروع کردی جائے گی۔ امریکی صدر نے اس سے قبل یورپی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے ذخائر سے ڈیزل جاری نہ کیا تو امریکا بھی انہیں ڈیزل کی فراہمی روک سکتا ہے۔

امریکی دباؤ

یورپی ممالک کی جانب سے ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور رسد کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر زور دے رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورپ کی جانب سے ہنگامی ذخائر سے ڈیزل جاری کرنے سے عالمی منڈی میں ایندھن کی دستیابی بہتر ہوگی اور قیمتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جی7 کا بڑا فیصلہ

فرانسیسی صدر کی جانب سے بھی بتایا گیا ہے کہ جی7 ممالک اگلے چار ماہ کے دوران مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل کی فراہمی پر رضامند ہوگئے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنا اور مختلف ممالک میں ایندھن کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا ہے۔

جی7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی رسد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

توانائی کا تحفظ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ہونے والے معاہدے کو بھی مستقبل میں امریکی توانائی کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ 8.4 ارب ڈالر مالیت کا تیل کی بازیابی کا منصوبہ طے پایا ہے۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں امریکا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

ایران تنازع کا اثر

ایران کے تنازع کے باعث دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی رسد کے حوالے سے خدشات نے قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

مختلف ممالک میں صارفین کو مہنگے ایندھن کا سامنا ہے جبکہ حکومتیں قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کی کینیڈا پر لفظی یلغار تیز، تجارتی جنگ میں نئی پابندیاں نافذ

برطانیہ میں ریکارڈ قیمت

برطانیہ میں بھی ڈیزل کی قیمت پہلی مرتبہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت 2 پاؤنڈ فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو ملک میں ڈیزل کی قیمت کا ایک غیر معمولی بلند ترین مقام ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے سے ٹرانسپورٹ، کاروبار اور عام صارفین کے اخراجات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی پر دباؤ

ایران کے تنازع کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی توانائی منڈی میں رسد اور طلب کے توازن کو متاثر کیا ہے۔ ڈیزل سمیت مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے کئی ممالک میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔

ایسے حالات میں یورپی ممالک کے ہنگامی ذخائر سے ڈیزل جاری کرنے اور جی7 ممالک کی جانب سے خام تیل و ڈیزل کی اضافی فراہمی کا فیصلہ عالمی منڈی میں رسد بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ہنگامی ذخائر کا استعمال

یورپ اور جی7 ممالک کی جانب سے ذخائر استعمال کرنے کا مقصد فوری طور پر مارکیٹ میں اضافی ایندھن پہنچانا ہے تاکہ قلت کے خدشات کم کیے جا سکیں۔

امریکی صدر کے اعلان اور فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد عالمی توانائی منڈی کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ ہنگامی ذخائر سے ڈیزل اور خام تیل کی فراہمی کتنی تیزی سے شروع ہوتی ہے اور اس کے عالمی قیمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں امریکا، یورپ اور دیگر بڑے توانائی استعمال کرنے والے ممالک کے لیے ایندھن کی مسلسل فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا اہم چیلنج بن گیا ہے، جبکہ ایران کے تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی منڈی پر بدستور اثر انداز ہو رہی ہے۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]