65 سال بعد جرمنی پھر تقسیم کے خطرے سے دوچار، انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی کا عروج

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)برلن دیوار کی تعمیر کو 65 برس گزرنے کے باوجود جرمنی ایک بار پھر گہری سیاسی اور سماجی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے، جہاں سابق مشرقی جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) کی بڑھتی مقبولیت نے ملک کے مستقبل اور جمہوری نظام کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

13 اگست 1961 کی صبح

13 اگست 1961 کو 10 ہزار سے زائد پولیس اور فوجی اہلکاروں نے برلن دیوار کی تعمیر شروع کی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک شہر اور پورے ملک کو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

دیوار نے سڑکوں، محلوں، خاندانوں اور دوستوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا، جبکہ مشرقی جرمنی کمیونسٹ نظام اور مغربی جرمنی جمہوری نظام کے تحت الگ الگ راستوں پر چل پڑے۔

28 سال تک قائم رہی

برلن دیوار 28 برس تک قائم رہی اور اس دوران آزادی کی تلاش میں اسے عبور کرنے کی کوشش کرنے والے افراد سمیت کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں فرار کی کوشش کرنے والے شہریوں کے علاوہ بعض راہگیر اور سرحدی محافظ بھی شامل تھے۔

بعد میں 1989 میں دیوار کے گرنے نے جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی راہ ہموار کی، لیکن کئی دہائیوں بعد بھی مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان سیاسی، معاشی اور سماجی فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

خاندان مشرقی حصے میں رہ گیا

برلن دیوار کے ابتدائی دنوں کے عینی شاہد ہارٹمٹ رِشٹر نے بتایا کہ دیوار کی تعمیر کے وقت ان کا خاندان مشرقی جرمنی میں پھنس گیا تھا۔

ان کے مطابق اس وقت کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ دیوار 28 برس تک قائم رہے گی۔

رِشٹر 1966 میں ایک منجمد دریا کو تیر کر عبور کرتے ہوئے مشرقی جرمنی سے مغربی برلن فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

بعد ازاں انہوں نے جان خطرے میں ڈال کر مزید 33 افراد کو اپنی گاڑی کے ڈِکی میں چھپا کر مشرقی جرمنی سے نکالنے میں مدد دی۔

آزادی کے لیے نئی تشویش

65 برس بعد رِشٹر اپنی جدوجہد کو صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک انتباہ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں جرمنی میں موجود آزادی کے مستقبل کے حوالے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ملک ایک مرتبہ پھر ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جمہوری آزادیوں اور سماجی اتحاد کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اے ایف ڈی کا تاریخی عروج

یہ تشویش انتہائی دائیں بازو کی الٹرنیٹو فار جرمنی پارٹی، اے ایف ڈی، کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اے ایف ڈی نے سابق مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان موجود پرانے اختلافات اور احساسِ محرومی کو مؤثر انداز میں سیاسی طاقت میں تبدیل کیا ہے۔

پارٹی خود کو مشرقی جرمن شناخت اور وہاں کے عوام کے مفادات کی نمائندہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔

معاشی محرومی کا اثر

تحقیقی مطالعات کے مطابق جرمنی کی مشرقی ریاستوں میں اے ایف ڈی کی مقبولیت کے پیچھے معاشی مسائل، آبادی میں تبدیلیاں اور کئی دہائیوں سے موجود اجتماعی محرومی کا احساس بھی اہم عوامل ہیں۔

دیہی علاقوں اور عمر رسیدہ آبادی رکھنے والے خطوں میں پارٹی کی حمایت نسبتاً زیادہ دیکھی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے باوجود ملک کے کئی مشرقی علاقوں کے شہری اب بھی خود کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے نظر انداز شدہ محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :یورپ،شدیدگرمی کی لہر برقرار،جرمنی میں گرمی کا 6 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

سیکسنی انہالٹ میں بڑا امتحان

سابق مشرقی جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں ہونے والے انتخابات کو اے ایف ڈی کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا گیا۔

انتخابات سے قبل سرویز میں پارٹی کو نمایاں برتری حاصل تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی جرمن ریاست میں انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

قومی سطح پر بھی اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا اور سرویز میں اسے ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعتوں میں شمار کیا گیا۔

امیگریشن پر سخت مؤقف

اے ایف ڈی کے سیاسی منشور میں قوم پرستانہ سماجی پالیسیوں اور امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

پارٹی بعض ایسے اقدامات کی بھی حمایت کرتی ہے جو یورپی یونین کے قوانین اور پالیسیوں سے متصادم سمجھے جاتے ہیں، جن میں تارکین وطن کے بچوں کے لیے علیحدہ اسکولوں کی تجویز بھی شامل ہے۔

پارٹی نے روایتی خاندانی نظام کے فروغ پر زور دیتے ہوئے جدید اور غیر روایتی طرز زندگی کی تشہیر کی مخالفت بھی کی ہے۔

ملک بدر کرنے کی تجاویز

اے ایف ڈی کے بعض رہنماؤں اور پالیسی تجاویز میں بڑے پیمانے پر ملک بدری اور غیر جرمن پس منظر رکھنے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کی گئی ہے۔

پارٹی ایک ایسی ثقافتی پالیسی کی بھی حامی ہے جسے وہ ’’محب وطن ثقافتی پالیسی‘‘ قرار دیتی ہے اور ان منصوبوں کی سرکاری فنڈنگ محدود کرنے کی بات کرتی ہے جو اس کے نزدیک قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

نازی ماضی کا سایہ

جرمنی کا نازی ماضی آج بھی ملک کی سیاست پر گہرا اثر رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑھتی مقبولیت کو خصوصی تشویش سے دیکھا جاتا ہے۔

اے ایف ڈی کے ریاست تھورنگیا کے رہنما بیورن ہوئکے جرمنی میں نازی دور سے منسلک ممنوعہ نعرہ استعمال کرنے پر عدالتوں کی جانب سے دو مرتبہ جرمانے کا سامنا کر چکے ہیں۔

ایک جرمن عدالت نے ایک فیصلے میں یہ بھی قرار دیا تھا کہ بعض حقائق کی بنیاد پر انہیں فاشسٹ قرار دینا ہتک عزت کے زمرے میں نہیں آتا۔

نئی تقسیم کا خدشہ

سیاسی تجزیہ کار جسٹس بینڈر کے مطابق یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ جرمنی نے کئی دہائیوں تک مشرقی اور مغربی حصوں کو دوبارہ ایک قوم بنانے کی کوشش کی، مگر اب ایک ایسی سیاسی قوت ابھر رہی ہے جس پر جرمن معاشرے کو مزید تقسیم کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

برلن دیوار کے 65 سال بعد جرمنی کے سامنے موجود سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ملک ماضی کی جغرافیائی تقسیم سے نکل کر سیاسی اور نظریاتی تقسیم کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا جرمن جمہوری نظام ان بڑھتے ہوئے اختلافات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے گا۔

ہمیں فالو کریں

[uw_related_posts]