اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )امریکہ نے ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف اقتصادی محاذ کھول دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں روسنیفٹ (Rosneft) اور لک آئل (Lukoil) — پر تازہ پابندیوں کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین میں جنگ بندی کے مطالبات بین الاقوامی سطح پر تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ یوکرین کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ ہوں۔یہ پابندیاں محض ایک اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہیں — کہ امریکہ اب عالمی توازنِ طاقت میں اپنی روایتی بالا دستی بحال کرنے کے لیے سخت گیر پالیسیوں پر واپس آ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک “بڑا دن” ہے، کیونکہ امریکہ نے روس کی دو بڑی توانائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان کے بقول، یہ فیصلہ آئندہ امریکی اقدامات کا پیش خیمہ ہے۔ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ روس یوکرین جنگ صدر بائیڈن کے دور میں شروع ہوئی ، اور وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “امید ہے کہ پابندیاں پیوٹن کو ایک معقول رویہ اپنانے پر مجبور کریں گی۔”یہ بیان صرف روس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش نہیں بلکہ امریکی عوام اور اتحادیوں کے لیے بھی ایک داخلی سیاسی پیغام ہے کہ موجودہ امریکی قیادت طاقت کے ذریعے امن لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
معاشی دباؤ یا سفارتی تعطل؟
روسنیفٹ اور لک آئل نہ صرف روسی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان پر پابندیاں عائد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، یورپ میں توانائی بحران اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔امریکی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں **جنگ بندی کے بجائے مزید کشیدگی** کو ہوا دے سکتی ہیں۔ روس شاید اپنی برآمدات کے لیے چین، بھارت یا مشرقِ وسطیٰ جیسے متبادل بازار تلاش کرے، جس سے امریکی اثر و رسوخ مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
I hope Putin will ‘become reasonable’ after US sanctions on Russia, says Trump.
"I think that they’ll certainly have an impact,” he adds.https://t.co/VrFWnHLT1r
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 and YouTube pic.twitter.com/lh54n0fwzf
— Sky News (@SkyNews) October 22, 2025
ٹرمپ کی سفارتی حکمتِ عملی
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بار پھر عالمی سطح پر “امن قائم کرنے والے رہنما” کے تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے سات جنگیں روکی ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ اور بھارت-پاکستان کی جنگ بھی شامل ہے۔”یہ بیان دراصل ٹرمپ کے انتخابی بیانیے کا حصہ ہے، جس میں وہ خود کو عالمی بحرانوں کے حل کا ضامن اور امن کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، مبصرین کے مطابق، یوکرین جنگ جیسے پیچیدہ تنازع کو صرف اقتصادی دباؤ سے حل کرنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے مذاکراتی فریم ورک، سیکورٹی گارنٹیز اور باہمی اعتماد سازی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
چین کا کردار — ممکنہ ثالث؟
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے۔ چین حالیہ برسوں میں یوکرین تنازع میں خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر امریکہ اور چین واقعی اس معاملے پر کسی مشترکہ حکمتِ عملی پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ حکومت کی تازہ پابندیاں ایک دو دھاری تلوار ہیں۔ ایک طرف یہ روس پر فوری دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن دوسری جانب یہ عالمی توانائی منڈی کو ہلا کر رکھ سکتی ہیں۔ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر یورپی اتحادیوں اور خود امریکی صارفین پر بھی پڑے گا۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارتی حکمتِ عملی کو ترجیح دی جائے۔ یوکرین کی جنگ نے پہلے ہی لاکھوں جانیں نگل لی ہیں، اور اگر عالمی طاقتیں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار نہ کریں تو دنیا ایک نئی اقتصادی و انسانی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
امریکہ کا تازہ اقدام بظاہر امن کے نام پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پابندیاں واقعی امن لا سکتی ہیں؟
جب تک واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ اور یورپی دارالحکومتوں کے درمیان **ایماندارانہ مذاکرات** کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا، تب تک ہر نئی پابندی، ہر نیا بیان صرف **جنگ کے دائرے کو وسیع کرتا رہے گا۔دنیا کو اب ایک بار پھر کسی طاقتور ملک کے “مضبوط فیصلوں” کی نہیں بلکہ عالمی انصاف اور سفارتی دانش کی ضرورت ہے۔