16
اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریوں کے سلسلے میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں
خصوصاً اسلام آباد اور راولپنڈی میں حساس علاقوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کے لیے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اہم سرکاری عمارتوں، سفارتی دفاتر اور داخلی راستوں پر سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی اور صرف خصوصی اجازت نامہ رکھنے والوں کو ہی رسائی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف حصوں میں ناکہ بندی اور گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
راولپنڈی میں بھی حساس تنصیبات، فوجی مراکز اور اہم شاہراہوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت سرچ آپریشنز اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔حکام کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی سطح کے اس اہم سفارتی عمل کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں بلکہ ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کے لیے پاکستان کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی امور کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی سطح پر تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے باعث پاکستان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کہ وہ ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرے۔