ایمرجنسی میں آٹھ گھنٹے انتظار،سینے کے درد میں مبتلا شخص جان کی بازی ہار گیا،تحقیقات کا حکم

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایڈمنٹن کے گری نَنز کمیونٹی ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ایک 44 سالہ شخص کی موت کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے ددیا ۔

متوفی کی شناخت پرشانتھ سری کمار کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر سینے کے شدید درد کے باوجود تقریباً آٹھ گھنٹے تک ڈاکٹر کو دکھائے بغیر انتظار کرتے رہے اور بالآخر جانبر نہ ہو سکے۔وزیر برائے ہسپتال و جراحی صحت خدمات، میٹ جونز، نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایکیوٹ کیئر البرٹا اور کوویننٹ ہیلتھ کو مشترکہ طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں اور حالات کا تفصیلی جائزہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسا کیا ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص کو بروقت طبی امداد نہ مل سکی۔
پرشانتھ سری کمار کی اہلیہ، نیہاریکا سری کمار، نے سی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کے شوہر کو دفتر میں کام کے دوران سینے میں درد شروع ہوا، جس کے بعد ایک کلائنٹ انہیں فوراً ہسپتال لے گیا۔ وہ خود بھی بعد میں ہسپتال پہنچیں اور تقریباً پورا وقت اپنے شوہر کے ساتھ انتظار گاہ میں گزارا، جہاں وہ مسلسل سینے کے درد کی شکایت کرتے رہے۔ ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حالت بگڑتی گئی، مگر مؤثر توجہ نہ مل سکی۔
اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو درست انداز میں ٹرائیج نہیں کیا گیا اور اگر بروقت علاج فراہم کیا جاتا تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں رہتے ہوئے یہ پہلا موقع تھا جب انہیں صحت کے نظام کی اشد ضرورت پڑی، مگر اسی وقت یہ نظام ناکام ثابت ہوا۔ ان کے الفاظ میں، وہ اپنے شوہر کے لیے انصاف چاہتی ہیں۔
خاندانی دوست ورندر بھلر نے بتایا کہ ابتدائی معائنوں میں کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی، تاہم وقت کے ساتھ پرشانتھ کا بلڈ پریشر بڑھتا رہا۔ ان کے مطابق، ٹرائیج کے فوراً بعد انہیں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا جس کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔ بھلر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جسے روکا جا سکتا تھا۔ایکیوٹ کیئر البرٹا نے بیان دیا ہے کہ وہ اس جائزے میں مکمل تعاون کرے گا اور اگر کوئی سفارشات سامنے آئیں تو ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف میڈیکل ایگزامنر کے دفتر نے بھی ایک علیحدہ اور آزادانہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ نے مریض کی رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے واقعے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
پرشانتھ سری کمار اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں، جن کی عمریں تین، دس اور چودہ سال ہیں۔ ان کی اہلیہ ایک خصوصی ضروریات والے بچے کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر ہی رہتی تھیں۔ خاندان کی مدد کے لیے ایک دوست نے چندہ مہم بھی شروع کر دی ہے۔اہلیہ نے اپنے شوہر کو بچوں کے لیے ایک “سپر ہیرو باپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچے انہیں بہت یاد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پرشانتھ نہ صرف ایک محنتی انسان تھے بلکہ اپنے خاندان کے لیے بڑے خواب رکھتے تھے، جو اس المناک واقعے کے ساتھ ادھورے رہ گئے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں