برف، سرحد اور بے بسی: کیوبیک میں ہیٹی کے مہاجرین کا دردناک واقعہ

 

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں کرسمس کے دن پیش آنے والا واقعہ، جس میں انتہائی سرد موسم میں امریکہ سے غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے انیس ہیٹی نژاد افراد کو گرفتار کیا گیا

محض ایک سرحدی خبر نہیں بلکہ یہ ایک گہرے انسانی، اخلاقی اور پالیسی بحران کی علامت ہے۔ ان افراد میں ایک تین سالہ بچہ اور دیگر کم عمر بچے بھی شامل تھے، جبکہ کئی افراد کو شدید سردی کے باعث فراسٹ بائٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ نہ صرف غیرقانونی ہجرت کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پناہ گزینوں، سرحدی نظم و ضبط اور انسانی ہمدردی کے مابین توازن پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
خطرناک راستے اور مجبور انسان
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دنیا کے کئی خطوں میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی، قدرتی آفات اور تشدد نے لاکھوں افراد کو ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ ہیٹی ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں مسلسل بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے میں جب خاندان اپنے بچوں سمیت منفی درجہ حرارت، برفانی جنگلات اور اندھیرے میں سرحد عبور کرنے پر مجبور ہوں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے پاس واپسی یا انتظار کا کوئی محفوظ راستہ باقی نہیں رہا۔
سوال یہ نہیں کہ یہ افراد غیرقانونی طور پر داخل ہوئے، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ اس حد تک خطرہ مول لینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ تین سالہ بچے کو شدید سردی میں جنگل کے راستے سرحد پار کروانا کسی بھی والدین کا پہلا انتخاب نہیں ہو سکتا، مگر جب حالات ناقابلِ برداشت ہو جائیں تو انسان زندگی بچانے کے لیے جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
قانون، سرحد اور ریاستی ذمہ داری
ریاست کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کا تحفظ کرے اور غیرقانونی داخلے کو روکے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) اور بارڈر سروسز ایجنسی نے اپنے قانونی فرائض کے مطابق کارروائی کی، جس میں نہ صرف افراد کو تحویل میں لیا گیا بلکہ زخمی اور متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی جان کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔تاہم، صرف گرفتاری اور وارننگ کافی نہیں۔ جب ایسے واقعات بار بار سامنے آئیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ صرف نفاذِ قانون کا نہیں بلکہ پالیسی اور بین الاقوامی تعاون کا بھی ہے۔ سرحدوں پر بڑھتے ہوئے غیرقانونی راستے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ نظام میں کہیں نہ کہیں خلا موجود ہے۔
سردی بطور خاموش قاتل
پولیس کی جانب سے بار بار یہ انتباہ دیا جاتا رہا ہے کہ سردیوں میں غیرقانونی سرحدی راستے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ کیوبیک اور دیگر سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت جان لیوا حد تک گر جاتا ہے۔ مناسب لباس، رہنمائی اور سہولیات کے بغیر سفر کرنے والے افراد نہ صرف فراسٹ بائٹ بلکہ ہائپوتھرمیا جیسے مہلک خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسمگلرز اور غیرقانونی نیٹ ورکس ان کمزور افراد کو گمراہ کر رہے ہیں؟ ایک ایسے شخص کی گرفتاری، جو مبینہ طور پر ان مہاجرین کو گاڑی میں لینے آیا تھا، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کا عنصر بھی اس المیے کا حصہ ہو سکتا ہے۔
بچوں کا تحفظ: ایک اجتماعی ذمہ داری
اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو بچوں کی موجودگی ہے۔ ایک، تین یا اس سے کم عمر کے بچے کسی بھی سیاسی یا قانونی تنازعے کے فریق نہیں ہوتے، مگر سب سے زیادہ متاثر وہی ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کو ہسپتال منتقل کرنا ایک درست قدم تھا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ دنیا انہیں ایسے حالات سے بچانے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے؟ بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر بچے کو تحفظ، صحت اور محفوظ مستقبل کا حق حاصل ہے، چاہے اس کی شہریت کچھ بھی ہو۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مہاجرین کے بحران میں بچوں کے لیے خصوصی پالیسیوں اور محفوظ راستوں کی اشد ضرورت ہے۔
پناہ کی درخواست اور انصاف کا عمل
تمام گرفتار افراد نے کینیڈا میں پناہ کی درخواست دے دی ہے، اور اب ان کے کیسز کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے سپرد ہیں۔ یہ مرحلہ نہایت اہم ہے کیونکہ یہیں فیصلہ ہوگا کہ کون واقعی پناہ کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ ایک منصفانہ، شفاف اور تیز تر نظام نہ صرف درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے بلکہ ریاستی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے بھی اہم ہے۔تاخیر، غیر یقینی اور طویل حراستیں انسانی تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں اور نظام پر اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔ اداریہ یہ سمجھتا ہے کہ کینیڈا جیسے ممالک کو اپنی انسانی روایات اور قانونی فریم ورک کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
حل کیا ہے؟
غیرقانونی ہجرت کا حل صرف سرحدوں پر باڑ لگانا یا گشت بڑھانا نہیں۔ اصل حل ان وجوہات کا تدارک ہے جو لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کے لیے متاثرہ ممالک میں استحکام اور ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون، قانونی اور محفوظ ہجرتی راستوں کی توسیع، بچوں اور خاندانوں کے لیے خصوصی تحفظاتی پروگرام انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی ،سرحدی علاقوں میں ہنگامی امدادی سہولیات کی دستیابی ،یہ تمام اقدامات مل کر ہی ایسے سانحات کو کم کر سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں