اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز) اٹلی کے ایک ایسے گاؤں میں جہاں انسانوں سے زیادہ بلیاں نظر آتی ہیں، تقریباً تیس برس بعد ایک بچے کی پیدائش نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
یہ منفرد واقعہ اٹلی کے پہاڑی علاقے میں واقع گاؤں پیگلیارا ڈی مارسی میں پیش آیا، جو گری فالکو نامی پہاڑی کی ڈھلان پر واقع ہے۔یہ گاؤں گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل آبادی میں کمی کا شکار رہا ہے۔
روزگار کے مواقع نہ ہونے اور جدید سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث بیشتر خاندان یہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ نتیجتاً گاؤں کی تنگ و پیچیدہ گلیاں اب زیادہ تر بلیوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں، جو بلا خوف گھروں میں داخل ہوتی، گلیوں میں گھومتی اور پہاڑ پر بنی قدیم پتھریلی دیواروں پر سستاتی دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم رواں برس مارچ میں اس خاموش اور ویران گاؤں کی فضا اس وقت بدل گئی جب تیس سال کے طویل وقفے کے بعد یہاں ایک بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس خوشی نے نہ صرف مقامی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لوٹا دی بلکہ برسوں سے چھائے سناٹے کو بھی توڑ دیا۔
ننھی بچی کا نام لارا بُسی ٹرابکو رکھا گیا ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں میں اس گاؤں میں پیدا ہونے والی پہلی اولاد ہے۔ چونکہ اس سے قبل طویل عرصے تک یہاں کسی بچے کی ولادت نہیں ہوئی تھی، اس لیے لارا نے پیدائش کے فوراً بعد ہی غیر معمولی شہرت حاصل کر لی۔
لارا کی والدہ کے مطابق اب ایسے لوگ بھی گاؤں کا رخ کر رہے ہیں جنہوں نے اس جگہ کا نام تک پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف نو ماہ کی عمر میں ہی لارا گاؤں کی پہچان بن چکی ہے اور سیاح و میڈیا نمائندے خاص طور پر اسے دیکھنے اور اس غیر معمولی کہانی کو جاننے آ رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لارا کی پیدائش نے انہیں امید دی ہے کہ شاید یہ گاؤں ایک بار پھر زندگی کی جانب لوٹ آئے۔ ان کے نزدیک یہ بچی صرف ایک فرد نہیں بلکہ اس ویران بستی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔