اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ترکیہ نے نئے سال کے موقع پر دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں۔
جن کے نتیجے میں داعش سے تعلق رکھنے والے 357 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ترک حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت انجام دی گئیں، جن کا مقصد ممکنہ دہشت گرد حملوں کو بروقت روکنا تھا۔ترک وزارتِ داخلہ کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں 21 صوبوں میں کی گئیں، جن میں صوبائی پولیس، انسدادِ دہشت گردی یونٹس اور خفیہ اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران متعدد ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا جو نئے سال کے موقع پر عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور کسی بھی شدت پسند تنظیم کو ملک کے امن و استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔استنبول میں سب سے بڑی کارروائی کی گئی، جہاں چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کے مطابق 110 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد نئے سال کے موقع پر استنبول میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گرفتار شدگان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر مشکوک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جس کی تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت انقرہ میں بھی کارروائیاں کی گئیں، جہاں چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے داعش سے تعلق رکھنے والے 17 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے 11 غیر ملکی شہری ہیں، جن پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے بین الاقوامی روابط کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔ چند روز قبل بھی استنبول میں کیے گئے چھاپوں کے دوران 100 سے زائد مشتبہ داعش ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور ڈیجیٹل مواد برآمد کیا گیا تھا، جس سے دہشت گرد منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب عوام بڑی تعداد میں اجتماعات کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں سنجیدہ ہے اور کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں۔ نئے سال کے موقع پر ان کامیاب آپریشنز نے نہ صرف ممکنہ جانی نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کیا ہے۔ترک حکومت نے واضح کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے اور دہشت گردی سے جڑے ہر نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔