سیاسی اختلافات کا واحد پائیدار حل سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،رانا ثناء اللہ

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی قسم کی سیاسی افراتفری موجود نہیں اور موجودہ سیاسی اختلافات کا واحد پائیدار حل سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق سڑکوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج یا عوامی بے چینی کا تاثر حقائق کے برعکس ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ لاہور دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شہر میں ایسی کوئی صورتحال دیکھنے میں نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق رہے اور کسی بڑے احتجاج یا ہنگامہ آرائی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے باہر جو واقعہ پیش آیا اس میں بھی افراد کی تعداد محدود تھی۔ ان کے بقول سہیل آفریدی کے ہمراہ صرف پچاس سے سو افراد موجود تھے، جنہیں دھکم پیل کرتے دیکھا گیا، مگر اسے کسی بڑے عوامی ردِعمل یا سیاسی بحران سے جوڑنا درست نہیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کے ذریعے اپنے مؤقف عوام تک پہنچاتی رہتی ہیں، جسے سیاسی سرگرمی کا حصہ سمجھنا چاہیے نہ کہ افراتفری۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ سیاسی مسائل طاقت، دباؤ یا سڑکوں کی سیاست سے حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے مکالمہ اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے تحریک انصاف کو ایک سے زیادہ بار بات چیت کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اگر وزیراعظم ہاؤس آنا مناسب نہیں تو اسپیکر آفس کو مذاکرات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا، تب ہی ملک درپیش مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی اب تک مذاکرات کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق ان کے بیانات اور پیغامات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ ڈائیلاگ کے حق میں نہیں، اگرچہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنما، جن میں بیرسٹر گوہر اور دیگر سینئر شخصیات شامل ہیں، بات چیت کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر ایک ایسا گروہ موجود ہے جو نہ صرف مخالفین بلکہ اپنی قیادت کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے دوران علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو یہ تاثر دیا گیا کہ مذاکرات بے سود ہیں اور اس کے بجائے سڑکوں پر تحریک چلائی جائے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کا سیاسی رابطہ یا مکالمہ نہیں کیا، اس لیے اب مذاکرات کی بات کرنا محض ایک دعویٰ محسوس ہوتا ہے۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تحریک انصاف نے سڑکوں پر نکل کر کسی قسم کی انارکی پھیلانے کی کوشش کی تو وہ ناکام ہوگی اور حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور کارروائی کرے گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں