اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نوز ) برطانیہ میں مقیم سکھ کمیونٹی نے حالیہ دنوں لندن میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا
مظاہرے میں میں بنگلادیش کی حمایت اور بھارت کی مخالفت کا اظہار کیا گیا۔ یہ مظاہرہ لندن میں واقع بنگلادیشی ہائی کمیشن کے باہر کیا گیا، جہاں سینکڑوں کی تعداد میں سکھ مظاہرین نے شرکت کی اور مختلف نعروں، بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے اپنے مطالبات اور مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ بنگلادیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور وہاں کی طلبہ تحریک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے جمع ہوئے ہیں۔مظاہرے کے دوران سکھ کمیونٹی کے افراد نے نوجوان بنگلادیشی طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کی شدید مذمت کی اور اسے خطے میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ مظاہرین کے مطابق عثمان ہادی کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ ایک نظریے کو دبانے کی کوشش ہے، جو بالآخر ایک بڑے انقلاب کا سبب بنے گی۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں سیاسی بیداری میں اضافہ ہوگا اور وہ قوتیں بے نقاب ہوں گی جو پس پردہ ریاستی تشدد اور سیاسی مخالفین کے قتل میں ملوث ہیں۔
احتجاج میں شریک سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجودہ حکومت، بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، نہ صرف اندرون ملک اقلیتوں کے خلاف سخت پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ بیرون ملک بھی اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت دنیا بھر میں بھارت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے والے افراد کو نشانہ بنا رہی ہے اور عثمان ہادی کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مظاہرے کے دوران کئی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمان ہادی کی جدوجہد اور قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان طلبہ رہنما کا قتل بنگلادیش میں ایک نئی سیاسی لہر کو جنم دے گا اور یہ واقعہ خطے میں عوامی تحریکوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ بعض مظاہرین نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ ایسے اقدامات بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے اور اگر ریاستی جبر کا سلسلہ جاری رہا تو بھارت اندرونی طور پر کمزور ہو کر ٹکڑوں میں بکھر سکتا ہے۔
سکھ مظاہرین نے اس موقع پر بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عثمان ہادی کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ پرتشدد کارروائیوں سے باز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو ایسے واقعات کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔مظاہرے میں شامل افراد نے بنگلادیشی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ طلبہ تحریک نے بنگلادیش میں سیاسی شعور کو نئی سمت دی ہے۔ ان کے مطابق، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں طلبہ تحریک نے اہم کردار ادا کیا، اور عثمان ہادی اس تحریک کے نمایاں ترجمان کے طور پر سامنے آئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان رہنما کا اس طرح قتل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ طاقتیں عوامی آواز سے خوفزدہ ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل عثمان ہادی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں سنگاپور منتقل کیا گیا۔ وہ کئی روز تک زیر علاج رہے، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ ان کے قتل کی خبر سامنے آتے ہی بنگلادیش سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو سیاسی قتل قرار دیا گیا۔عثمان ہادی کے انتقال کے بعد بنگلادیش میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جہاں ہزاروں افراد نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہو کر بھارت کے خلاف نعرے بازی کی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور عثمان ہادی کے خون کا حساب لیا جائے گا۔
برطانیہ میں ہونے والے اس مظاہرے کے دوران سکھ کمیونٹی کے افراد نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر کی سکھ برادری مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جہاں کہیں بھی ناانصافی، جبر یا سیاسی قتل ہوں گے، وہاں سکھ کمیونٹی اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ بعض مظاہرین نے پاکستان کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ ریاستیں جبر کے بجائے مکالمے اور انصاف کا راستہ اپنائیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، برطانیہ میں ہونے والا یہ مظاہرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے سیاسی تنازعات اب عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم کمیونٹیز اپنے آبائی خطوں کے مسائل پر نہ صرف گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان پر کھل کر رائے بھی دے رہی ہیں۔ ایسے مظاہرے مغربی دارالحکومتوں میں جنوبی ایشیائی سیاست کو ایک نیا عالمی تناظر فراہم کر رہے ہیں۔
اگرچہ بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں بھارت ایسے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے اور انہیں اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے عالمی ادارے مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو تشدد کے بجائے جمہوری اور قانونی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے۔
برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا یہ مظاہرہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاہم اس نے ایک بار پھر خطے میں جاری سیاسی کشیدگی، طلبہ تحریکوں کے کردار اور بیرون ملک مقیم کمیونٹیز کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسے احتجاجی مظاہروں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات شفاف انداز میں نہ کی گئیں اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا۔