میٹا کی بڑی بازی،کیا دنیا نئے اے آئی دور میں داخل ہو چکی ہے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دنیا اس وقت جس تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے دور میں داخل ہو رہی ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

حالیہ برسوں میں اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست، معیشت، سکیورٹی اور سماجی رویّوں پر اثر انداز ہونے والی طاقت بن چکا ہے۔ ایسے میں میٹا (Meta) کی جانب سے چینی نژاد اے آئی اسٹارٹ اپ مانس (Manus) کو تقریباً دو ارب ڈالر میں خریدنے کا اعلان محض ایک کاروباری سودا نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی ٹیکنالوجی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
میٹا کا نیا قدم: مجبوری یا حکمتِ عملی؟
فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کو طویل عرصے سے یہ تنقید سہنی پڑ رہی ہے کہ وہ اختراعی ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ اوپن اے آئی، گوگل اور مائیکروسافٹ جیسے ادارے اے آئی کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ میٹا اپنی شناخت دوبارہ قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ایسے میں مانس کا حصول دراصل میٹا کی بقا کی جنگ کا حصہ ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق میٹا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود سے انقلابی اے آئی تیار کرنے میں ناکام رہا۔ اسی لیے اب اس نے چھوٹی مگر مؤثر کمپنیوں کو خرید کر اپنی صلاحیت بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مانس کا انتخاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
 مانس کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟
مانس ایک سنگاپور میں قائم مگر چینی بنیادوں والی کمپنی ہے جو ایجنٹک اے آئی (Agentic AI) پر کام کرتی ہے۔ یہ وہ جدید طرز کی مصنوعی ذہانت ہے جو محض احکامات پر عمل نہیں کرتی بلکہ خود فیصلے کرنے اور کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یعنی صارف کو ہر قدم پر ہدایت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہی خصوصیت مانس کو چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک جیسے دیگر اے آئی سسٹمز سے ممتاز بناتی ہے۔ مزید یہ کہ مانس پہلے ہی منافع کما رہی ہے، جو اے آئی انڈسٹری میں ایک نایاب بات ہے، جہاں زیادہ تر کمپنیاں مستقبل کے خواب بیچ رہی ہیں۔میٹا کے لیے یہ سودا اس لیے بھی پرکشش ہے کہ مانس کی ٹیکنالوجی کو واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام میں ضم کر کے صارفین کو ایک ایسا ڈیجیٹل معاون دیا جا سکتا ہے جو چیٹ کرے، ادائیگیاں سنبھالے، فیصلے کرے اور صارف کو پلیٹ فارم سے جوڑے رکھے۔
زکربرگ کا خواب: ایک ہمہ جہت ڈیجیٹل ساتھی
مارک زکربرگ طویل عرصے سے ایک ایسے ڈیجیٹل اسسٹنٹ کا خواب دیکھ رہے ہیں جو محض چیٹ بوٹ نہ ہو بلکہ انسان کے روزمرہ کے کاموں میں عملی مددگار ثابت ہو۔ چین کی ایپ وی چیٹ (WeChat) اس ماڈل کی بہترین مثال ہے جہاں چیٹ، ادائیگیاں، خریداری اور سروسز ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔مانس کی ٹیکنالوجی میٹا کو اسی سمت لے جا سکتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو واٹس ایپ ایک عام میسجنگ ایپ نہیں رہے گی بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم بن سکتی ہے — اور یہی چیز میٹا کے منافع میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہے۔
چینی پس منظر: سب سے بڑا سوالیہ نشان
تاہم اس سودے کا سب سے متنازع پہلو مانس کا چینی پس منظر ہے۔ امریکہ پہلے ہی ٹک ٹاک کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کر چکا ہے، جہاں قومی سلامتی اور ڈیٹا کے تحفظ کے خدشات سامنے آئے تھے۔مانس کی خریداری بھی انہی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر ٹک ٹاک پر ڈیٹا چوری کا الزام تھا تو مانس جیسی ایجنٹک اے آئی اس سے کہیں زیادہ حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ امریکی سیاست دان پہلے ہی اس سودے پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور امکان ہے کہ ریگولیٹری ادارے اس پر سخت جانچ کریں گے۔ریپبلکن سینیٹر جان کارنِن کا بیان اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی سرمایہ کار غیر دانستہ طور پر چین کو اے آئی کی دوڑ میں فائدہ پہنچا رہے ہیں، جو مستقبل میں معاشی اور عسکری چیلنج بن سکتا ہے۔
کیا یہ ڈیل منظور ہو پائے گی؟
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکی حکومت اس معاہدے کو منظوری دے گی یا نہیں۔ تاہم حالیہ رجحانات کو دیکھتے ہوئے یہ طے ہے کہ میٹا کو سخت نگرانی، ڈیٹا لوکلائزیشن اور سیکیورٹی شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر یہ ڈیل منظور ہو جاتی ہے تو یہ میٹا کے لیے ایک بڑی فتح ہوگی، اور اگر مسترد ہوئی تو یہ امریکی ٹیک انڈسٹری میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور ثبوت بن جائے گی۔
ٹیکنالوجی کی جنگ یا مستقبل کی تیاری؟
مانس کا حصول محض ایک کمپنی کی خریداری نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک نئے ٹیکنالوجیکل دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مصنوعی ذہانت سب سے بڑی طاقت بننے جا رہی ہے۔ یہ سودا اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا مستقبل کی دنیا میں ٹیکنالوجی انسان کے لیے سہولت ہوگی یا ریاستوں کے درمیان طاقت کی نئی جنگ کا میدان۔میٹا کے لیے یہ ایک جوا ہے — اگر کامیاب ہوا تو وہ دوبارہ ٹیکنالوجی کی قیادت حاصل کر سکتا ہے، اور اگر ناکام ہوا تو یہ اسے قانونی، سیاسی اور معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں