اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی کوئی نئی بات نہیں، مگر گزشتہ چند برسوں میں یہ کشمکش زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے ۔
خصوصاً البرٹا میں قدرتی وسائل، ماحولیات، پائپ لائنوں اور اب اسلحہ پالیسی نے ایک مرتبہ پھر سیاسی فضا کو تیز کر دیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے سالانہ اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ صوبہ اس ہفتے ایک ایسی قرارداد پیش کرے گا جو وفاقی حکومت کے فائر آرم بائی بیک پروگرام کو صریحاً چیلنج کرے گی۔ اس قرارداد کے تحت صوبائی اداروں، بشمول میونسپل حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ وفاقی پالیسی پر عمل درآمد سے گریز کریں۔
وفاقی و صوبائی تناؤ کی نئی شکل
وفاقی حکومت نے 2020 میں 2,500 سے زائد اقسام کے ’اسالٹ اسٹائل‘ ہتھیاروں پر پابندی لگا کر انہیں خرید کر واپس لینے کا پروگرام تیار کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی یا خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانا تھا۔تاہم البرٹا حکومت اسے بجا طور پر جائیداد کے حقوق، شہری آزادیوں اور اختیارات کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ چیف فائر آرمز آفیسر ٹیری برائنٹ کے مطابق یہ قانون ایسے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو اسلحے کے ذمہ دارانہ استعمال کے قائل ہیں اور جن کے پاس یہ ہتھیار کھیل، سرمایہ کاری یا جذباتی وابستگی کی وجہ سے موجود ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس پابندی سے جرائم میں کمی کے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔
یہ صورتحال اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا وفاقی حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین صوبوں پر لازم ہیں یا کیا صوبے انہیں مؤخر یا رد کرسکتے ہیں؟ "البرٹا سوورنٹی ایکٹ” اگرچہ قانونی اعتبار سے متنازع ہے، لیکن سیاسی دباؤ بڑھانے کا مؤثر ہتھیار ضرور بن چکا ہے۔
قانونی پیچیدگیاں اور RCMP کا مخمصہ
اگر یہ قرارداد منظور ہوتی ہے تو سب سے مشکل صورتحال RCMP کے لیے پیدا ہوگی۔ یہ فورس وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ صوبائی حکومت ایک سمت کا تقاضا کرے گی جبکہ اس کے افسران کو وفاقی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ یہ کشمکش مستقبل میں ٹکراؤ اور انتظامی افراتفری کو جنم دے سکتی ہے۔جسٹس منسٹر مکی ایمری کا یہ بیان کہ "RCMP پہلے ہی understaffed ہے لہٰذا اس پروگرام پر وسائل ضائع نہیں کرنے چاہئیں” دراصل وفاقی پالیسی کے خلاف ایک سیاسی مؤقف ہے، تاہم عملی طور پر یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے یقینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اسمتھ کی حکمتِ عملی اور UCP کی داخلی سیاست
ڈینیئل اسمتھ نے اپنی تقریر میں جس جارحانہ انداز میں اسلحے کے حق میں دلائل دیے، وہ ان کے سیاسی بیس کو واضح طور پر متحرک کرتا ہے۔ "اگر گولی نہیں کھانی تو کسی کے گھر میں گھسنے کی غلطی نہ کرو” جیسے جملے عوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی طبقے میں تنقید کا باعث بھی بنتے ہیں۔
UCP کی بنیاد کے اندر علیحدگی پسند اور سخت گیر حلقے** پہلے ہی وفاق مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ اسمتھ نے ماحولیاتی قوانین میں وفاق سے نرمی حاصل کرنے اور کاربن کی قیمت میں اضافہ جیسے معاملات پر معاہدہ تو کیا، مگر اس کے نتیجے میں انہیں اپنی ہی جماعت کے بعض دھڑوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلحے پر سخت مؤقف دراصل اس ناراضی کو کم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
کیا صوبائی مزاحمت کارگر ثابت ہوگی؟
وفاقی حکومت کے لیے یہ صورتحال محض آئینی نہیں بلکہ سیاسی چیلنج بھی ہے۔ اگر ہر صوبہ اپنے طور پر وفاقی قوانین کو ماننے یا مسترد کرنے لگے تو کینیڈا کا وفاقی ڈھانچہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، صوبوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے مخصوص معاشی، سماجی اور جغرافیائی حالات کے مطابق بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔اسلحہ پالیسی پر یہ ٹکراؤ اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ **وفاقی اور صوبائی طاقت کا توازن کیا ہونا چاہیے؟
البرٹا اور اوٹاوا کی کشمکش دراصل یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت میں وفاق—صوبہ تعلقات ہر وقت مذاکرات، دلائل اور آئینی حدود کے درمیان چلتے ہیں۔جہاں وفاق اپنی رٹ قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہیں صوبے اپنی خودمختاری اور عوامی مفاد کا دفاع کرتے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں سطحیں تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ اسلحے، ماحولیات، صحت اور انصاف جیسے مسائل صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی سلامتی کے مسائل ہیں۔