ایران اور کینیڈا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب تہران نے کینیڈا کی بحریہ (رائل کینیڈین نیوی) کو باضابطہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے 2024 میں ایرانی فوجی شاخ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے
۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کا IRGC کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران ایسے اقدامات کو سیاسی نوعیت کا اور بیرونی دباؤ کے تحت کیا جانے والا فیصلہ سمجھتا ہے، جو عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے۔بیان میں 2019 کے ایک ایرانی قانون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جو اُس وقت منظور کیا گیا تھا جب امریکہ نے IRGC کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
اس قانون کے تحت ایران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اُن ممالک کے خلاف جو امریکی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے ایرانی فوجی اداروں کو نشانہ بنائیں، جوابی اقدامات کرے۔ اسی قانون کی بنیاد پر ایران نے اب رائل کینیڈین نیوی کو بھی دہشت گرد تنظیموں کے دائرہ کار میں شامل کر لیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ چونکہ کینیڈا نے امریکی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے IRGC کو دہشت گرد قرار دیا، اس لیے ایران کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھی متناسب اور جوابی اقدام کرے۔اس پیش رفت پر کینیڈا کے محکمۂ قومی دفاع نے تبصرہ کرنے کے بجائے سوالات کو گلوبل افیئرز کینیڈا کی جانب منتقل کر دیا، تاہم خبر شائع ہونے تک گلوبل افیئرز کی جانب سے کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب کینیڈا کا مؤقف برقرار ہے کہ ایران کی حکومت طویل عرصے سے اپنے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ کینیڈا یہ بھی کہتا ہے کہ ایران کے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس اعلان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جو پہلے ہی سفارتی سطح پر محدود اور کشیدہ رہے ہیں۔ یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ریاستی فوجی اداروں کو دہشت گرد قرار دینے کے کیا قانونی اور سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔