یو اے ای میں کام کرنے والے ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) متحدہ عرب امارات نے نئے سال کے موقع پر اپنے شہریوں کے لیے ایک بڑی معاشی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے نجی شعبے میں کم از کم تنخواہ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کے مطابق یکم جنوری 2026 سے نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی شہریوں کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 6 ہزار درہم مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ حکومت کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت اماراتی شہریوں کو نجی شعبے میں بہتر مواقع فراہم کرنے اور ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ قانون نئے جاری ہونے والے، تجدید شدہ اور ترمیم شدہ تمام دو سالہ ورک پرمٹس پر لاگو ہوگا اور اس کے بعد کوئی بھی ادارہ 6 ہزار درہم سے کم تنخواہ ظاہر کر کے ورک پرمٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔
وزارت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتیوں کے حقوق کا تحفظ اور انہیں باوقار روزگار فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اماراتائزیشن پالیسی کو مضبوط بنائے گا بلکہ نجی شعبے کو مقامی افرادی قوت کے لیے مزید پرکشش بھی بنائے گا۔ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی مقررہ تاریخ تک ملازمین کی تنخواہیں نئی حد کے مطابق درست نہیں کرتی تو یکم جولائی 2026 سے اس کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، ورک پرمٹس کی معطلی اور دیگر سخت اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور شہریوں کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سے قبل یکم جنوری 2025 سے اماراتیوں کے لیے کم از کم تنخواہ 5 ہزار درہم مقرر کی گئی تھی، تاہم نئے فیصلے کے تحت اس میں ایک ہزار درہم کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے سے نجی شعبے میں اماراتی نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ ہوگا اور سرکاری ملازمتوں پر انحصار کم ہو گا۔
دوسری جانب وزارتِ انسانی وسائل نے واضح کیا ہے کہ کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو کمپنیاں اس فیصلے پر عمل نہیں کریں گی انہیں نہ صرف قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کے خلاف پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف اجرت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک مضبوط، منصفانہ اور پائیدار لیبر مارکیٹ کا قیام ہے جہاں ملازمین کو معاشی تحفظ حاصل ہو۔ماہرین معاشیات کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ قدم خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف معاشی استحکام کو فروغ دے گا بلکہ مقامی افرادی قوت کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا۔ نئے سال کے آغاز پر کیا جانے والا یہ اعلان بلاشبہ لاکھوں اماراتی شہریوں کے لیے خوش آئند ثابت ہوا ہے اور اسے حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں