اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اس سال شرائنرز ہاسپٹلز فار چلڈرن کینیڈا ایک اہم سنگِ میل منا رہا ہے، کیونکہ ادارہ بچوں کو پیچیدہ آرتھوپیڈک اور اعصابی و عضلاتی بیماریوں کے علاج کی خدمات فراہم کرتے ہوئے 100 سال مکمل کر چکا ہے۔
یہ اسپتال 1925 میں مونٹریال میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد پولیو اور دیگر سنگین بیماریوں سے متاثرہ بچوں کا علاج کرنا تھا، چاہے ان کے پاس علاج کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران یہ ادارہ آرتھوپیڈک علاج، تحقیق اور جدت کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک ممتاز مرکز بن چکا ہے۔
بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین گیری مک ایون نے اسپتال کی طویل تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاجب آپ 1925 کے دور کو دیکھتے ہیں، تو مونٹریال میں پولیو اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے ایک مخصوص اسپتال کا قیام اور پھر اس کا 100 سال تک قائم رہنا واقعی شاندار بات ہے۔
انہوں نے اسپتال کی دس سال قبل مک گل یونیورسٹی ہیلتھ سینٹر کے گلین کیمپس کے قریب موجودہ مقام پر منتقلی کو بھی ایک اہم مرحلہ قرار دیا۔
“ہمارا اسپتال پہلے ماؤنٹ رائل پر واقع تھا، جو نہایت خوبصورت اور سب کے دل کے قریب تھا۔ جب ہم نے دس سال پہلے یہاں نیا اسپتال کھولا تو اس سے سب کے لیے بہت بڑا فرق پڑا۔گیری مک ایون نے اسپتال کے فروغ میں شرائنرز تنظیم کے کردار پر بھی زور دیا۔
“ہم شرائنرز اپنی مخصوص ٹوپیوں (فیض) کے ساتھ اسپتال کی عوامی پہچان ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ شرائنرز ہاسپٹل مونٹریال کا سب سے بہتر مگر کم جانا پہچانا راز ہے۔ جب لوگ ہمیں سینٹ کیتھرین اسٹریٹ یا سینٹ پیٹرک پریڈ میں دیکھتے ہیں تو اکثر آواز دیتے ہیں، ‘ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ نے میرے بیٹے کی مدد کی، آپ نے میرے کزن کی مدد کی۔’ یہ سب اسپتال کی عوامی شناخت کو ظاہر کرتا ہے۔”
یہ اسپتال تحقیق کے میدان میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر نایاب ہڈیوں کی بیماریوں جیسے اوسٹیوجینیسس امپرفیکٹا (جسے عام طور پر نازک ہڈیوں کی بیماری کہا جاتا ہے) کے علاج میں۔قائم مقام اسپتال ایڈمنسٹریٹر کیلی تھورسٹڈ نے ان کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
“ہمارے لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ مریض اور ان کے خاندان ہمارے ہر کام کے مرکز میں ہوں۔ ہم مسلسل اپنی مریض مرکز نگہداشت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بچوں کو اپنے خواب پورے کرنے، اپنے اہداف حاصل کرنے اور خود کا بہترین روپ بننے میں مدد مل سکے۔”
انہوں نے اسپتال کے عالمی سطح پر منفرد علاج کا بھی ذکر کیاہم نے اوسٹیوجینیسس امپرفیکٹا کے مریضوں کے لیے انقلابی علاج متعارف کرائے۔ یہ وہی ادارہ ہے جہاں بائیس فاسفونیٹ علاج کا طریقہ تیار کیا گیا، جو اب دنیا بھر میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے فاسی ڈووال راڈ بھی تیار کی، جس کی بدولت وہ بچے چلنے کے قابل ہو سکے، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔
کیلی تھورسٹڈ کے مطابق اسپتال کی اصل طاقت اس کی ہمدرد اور فیاض ثقافت ہے، جسے وہ “شرائنرز میجک” قرار دیتی ہیں۔مہربانی اور خاندانی ماحول ہمارے ہر کام میں جھلکتا ہے۔ ہم تحقیق اور تعلیم کو براہِ راست مریضوں کے بستر تک لانے پر توجہ دیتے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو جدید ترین اور بہترین علاج میسر آ سکے۔”