غزہ کی تقسیم کا مبینہ امریکی منصوبہ، امن یا مزید بحران؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانوی جریدے گارڈین کی حالیہ رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر غزہ کی مستقبل کی سیاسی اور انتظامی حیثیت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے غزہ کو ’’گرین زون‘‘ اور ’’ریڈ زون‘‘ میں تقسیم کرنے کا ایک طویل مدتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں گرین زون عالمی اور اسرائیلی فوجی کنٹرول کے تحت ہوگا، جبکہ ریڈ زون کو ملبے اور تباہی کی شکل میں رہنے دیا جائے گا۔ یہ دعویٰ نہ صرف خطے میں امن کی نازک امیدوں کو کمزور کرتا ہے، بلکہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کے بارے میں امریکی عزائم پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔

غزہ پہلے ہی تباہی کے بے مثال مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں 80 فیصد سے زائد انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر ہے اور 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایسے میں زونز کی صورت میں تقسیم کا تصور عملی تنازعات کو کم کرنے کے بجائے، فلسطینی عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگر گرین زون کو عالمی فوجی کنٹرول میں رکھا جاتا ہے اور فلسطینی حکمرانی کو محدود کیا جاتا ہے، تو یہ فلسطینی خودمختاری کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے متبادل محفوظ کمیونیٹیز کے منصوبے کو ترک کر دیا ہے، مگر اس کے باوجود وہ یورپی ممالک کو ایک بڑی امن فورس میں شامل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ یورپ کی ہچکچاہٹ اس تناظر میں فطری ہے، کیونکہ اسرائیلی انخلا کے بغیر ایک عالمی فورس کا تعیناتی غزہ کو ایک مستقل فوجی تجربہ گاہ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیلی افواج کے کردار اور ٹائم فریم کی عدم وضاحت، منصوبے کو مزید مشکوک بنا دیتی ہے۔ گارڈین نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ یہ منصوبہ امن کے نام پر غزہ میں طاقت اور کنٹرول کے ایک طویل کھیل کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی امریکی منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر تعمیر نو، فلسطینی خودمختاری اور امدادی راستوں کی بحالی کو ترجیح نہ دی گئی تو کوئی بھی امن فورس خود ایک محاصرہ زدہ وجود بن کر رہ جائے گی۔ غزہ کے عوام کو سب سے زیادہ ضرورت تباہ شدہ گھروں کی بحالی، طبی سہولیات کی فراہمی، صاف پانی، خوراک اور روزمرہ زندگی کی بحالی کی ہے — نہ کہ نئی فوجی تقسیم کی۔

غزہ کا بحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر امریکا یا کوئی اور ملک غزہ کے مستقبل کو فلسطینی عوام کی مرضی، خودمختاری اور انسانی حقوق سے ہٹ کر تشکیل دینے کی کوشش کرے گا، تو اس کے نتائج دیرپا اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔ غزہ کے حل کی بنیاد اس کے لوگوں کی خواہشات، بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی وقار کے احترام پر ہونی چاہیے — نہ کہ فوجی زونز اور طاقت کے توازن پر۔
امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینیوں کو ان کا جائز حقِ حکمرانی اور dignified زندگی کی بنیادی ضمانتیں فراہم نہ کی جائیں۔ غزہ کی تقسیم کا منصوبہ امن کا راستہ نہیں، بلکہ مزید تقسیم، بے یقینی اور تناؤ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ دنیا کو تعمیر نو، شفاف سفارت کاری اور انسانی ہمدردی کے ایجنڈے پر متحد ہونے کی ضرورت ہے — نہ کہ ایک اور مصنوعی سیاسی نقشہ بنانے کی۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں