اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ کی پٹی میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت اور تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے
جس کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ تازہ واقعات نے ایک بار پھر جنگ بندی کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ غزہ کے نہتے شہری مسلسل عدم تحفظ، خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے تازہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں ایک 15 سالہ فلسطینی ماہی گیر لڑکا بھی شامل ہے، جو روزگار کے لیے سمندر میں موجود تھا۔ اس واقعے نے غزہ میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے اور عالمی برادری کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب تک 400 سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز مختلف بہانوں کے تحت فائرنگ، فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے شہری آبادی براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔
غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں میں شہید ہونے والے افراد میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جن میں بچے، نوجوان اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ اسپتالوں میں زخمیوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ ادویات، طبی آلات اور عملے کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک فلسطین میں شہدا کی مجموعی تعداد 71 ہزار 384 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 1 لاکھ 71 ہزار 251 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں امن کی صورتحال بدستور خطرے میں ہے۔
صرف جانی نقصان ہی نہیں بلکہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتیں، اسکول، اسپتال اور بنیادی ڈھانچہ شدید طور پر متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو پانی، بجلی، خوراک اور طبی سہولتوں جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں رہی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ اس وقت ایک شدید انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے امدادی سامان پہنچانے کی کوششیں بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ سرحدی پابندیوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث امداد کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں درپیش ہیں۔
فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فائرنگ اور حملے ان کے لیے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ماہی گیروں، کسانوں اور مزدوروں کو نشانہ بنانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ عام شہری کسی بھی صورت میں محفوظ نہیں رہے۔ 15 سالہ ماہی گیر لڑکے کی شہادت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاش کمانے کی کوشش بھی غزہ میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں، جس کا مقصد دباؤ برقرار رکھنا اور فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے بروقت اور مؤثر کردار ادا نہ کیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
فلسطینی قیادت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی مظالم کا نوٹس لیا جائے اور جنگ بندی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض بیانات اور تشویش کا اظہار کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام کی جانب سے ان حملوں پر روایتی مؤقف اختیار کیا گیا ہے، جس میں سکیورٹی خدشات اور جوابی کارروائیوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم آزاد مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس مؤقف کو مسترد کر چکی ہیں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔
عالمی سطح پر مختلف ممالک اور تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار تو کیا گیا ہے، لیکن فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ غزہ کے شہری مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں ہر دن ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق غزہ کی موجودہ صورتحال نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہے بلکہ یہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر جنگ بندی کو مؤثر نہ بنایا گیا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔غزہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، مگر امن صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتا ہے۔ جب تک اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے، بے گناہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن نہیں ہوتی، اس وقت تک جنگ بندی محض ایک کاغذی اعلان ہی رہے گی۔
مجموعی طور پر غزہ میں جاری صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ مزید تین فلسطینیوں کی شہادت نے اس حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے کہ فلسطینی عوام آج بھی شدید ظلم، ناانصافی اور انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں، اور دنیا کی نظریں اب بھی ان کے دکھ درد پر مرکوز ہونے کی منتظر ہیں۔