اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور اور لیجنڈ اداکار سلطان راہی کی دنیا سے رخصتی کو 30 سال مکمل ہو گئے ہیں، مگر ان کی یاد اور فن آج بھی سینما کے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہے۔ سلطان راہی نے تقریباً 40 سالہ فلمی کیریئر کے دوران 800 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور پاکستانی فلمی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
سلطان راہی کا تعلق راولپنڈی سے تھا اور انہوں نے 1956 میں فلم “باغی” سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ تاہم ان کی حقیقی شہرت 1975 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم “وحشی جٹ” سے حاصل ہوئی، جس نے انہیں ایک عام اداکار سے ایک مقبول اور پہچانے جانے والے فنکار میں تبدیل کر دیا۔ ان کی اداکاری میں منفرد انداز، مزاح، روایتی پنجابی رنگ اور جذباتی انداز نے عوام کو بے حد متاثر کیا۔
سلطان راہی نے اپنے کیریئر میں 700 سے زائد پنجابی فلمیں اور 100 سے زیادہ اردو فلمیں کیں۔ ان کی یادگار فلموں میں “مولا جٹ” فن کے سلطان”، “شیر خان”، “چن وریام”، بشیرا، اور خان چاچا شامل ہیں، جن میں انہوں نے لازوال کردار نبھائے۔ ان کی اداکاری کے انداز اور منفرد شخصیت نے انہیں پاکستانی سینما کا “کلائنٹ ایسٹ وڈ” کہلوانے کا اعزاز بھی دلایا۔
سلطان راہی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 160 سے زائد ایوارڈز دیے گئے۔ وہ صرف ایک کامیاب اداکار ہی نہیں بلکہ پنجابی فلمی دنیا کے ثقافتی اور عوامی چہروں میں سے ایک تھے، جنہوں نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ اپنے کرداروں کے ذریعے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا۔
بدقسمتی سے، سلطان راہی کو 9 جنوری 1996 کو گوجرانوالہ میں قتل کر دیا گیا، مگر ان کی اداکاری، ان کا انداز اور فن آج بھی پاکستانی سینما اور عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی یادگار فلمیں، کردار اور منفرد انداز آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور انہیں پاکستانی فلم انڈسٹری کے ایک ناقابل فراموش لیجنڈ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔