12 ارب سال پرانی روشنی ، سائنس دانوں کو چونکا دینے والی دریافت

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سائنس دانوں نے کائنات کے انتہائی ابتدائی دور میں گیس کے ایک غیر معمولی طور پر گرم مجموعے کا مشاہدہ کیا ہے

جس نے فلکیاتی تحقیق میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ گیس کلسٹر بگ بینگ کے تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ برس بعد وجود میں آیا، ایک ایسا وقت جب کائنات ابھی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں تھی اور سائنس دانوں کے مطابق اس درجے کی شدید حرارت رکھنے والی ساخت کا وجود ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا۔
تحقیق کے مطابق دریافت ہونے والا یہ گیس کلسٹر اپنی حرارت کے لحاظ سے سائنس دانوں کی توقعات سے کم از کم پانچ گنا زیادہ گرم ہے، یہاں تک کہ اس میں پائی جانے والی توانائی آج کے دور میں موجود بڑے کہکشانی جھرمٹوں سے بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی طور پر ماہرین فلکیات نے اس مشاہدے کو کسی تکنیکی یا سائنسی غلطی کا نتیجہ تصور کیا، تاہم مہینوں پر محیط تصدیقی عمل کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ مشاہدہ حقیقت پر مبنی ہے۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے وابستہ محقق ڈاژی ژو کے مطابق، سائنس دانوں کو یہ بالکل امید نہیں تھی کہ ابتدائی کائنات میں اتنی شدید گرم گیس پر مشتمل کوئی جھرمٹ دریافت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں حاصل ہونے والے سگنلز پر شکوک و شبہات تھے، مگر مسلسل تجزیے اور ڈیٹا کی جانچ کے بعد یہ مان لیا گیا کہ یہ دریافت سائنسی اعتبار سے درست اور غیر معمولی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس گیس کے غیر معمولی حد تک گرم ہونے کے پیچھے کوئی انتہائی طاقتور ذریعہ موجود تھا۔ ممکنہ طور پر یہ توانائی عظیم الجثہ بلیک ہولز سے خuارج ہو رہی تھی، جن کی تعداد اس جھرمٹ میں تین تک بتائی جا رہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ان بلیک ہولز نے اپنے اردگرد کے ماحول میں شدید گرم ہوائیں بھر دیں، تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ کائنات کے اتنے ابتدائی دور میں ایسی طاقتور ساختوں کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔
یہ غیر معمولی دریافت SPT2349-56 نامی ایک نو عمر یا ’بیبی‘ کہکشانی کلسٹر کے مشاہدے کے دوران سامنے آئی۔ اس کلسٹر کو دیکھنے کے لیے سائنس دانوں نے تقریباً 12 ارب سال پیچھے ماضی میں جھانکا۔ اگرچہ یہ جھرمٹ عمر کے لحاظ سے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس کا حجم غیر معمولی طور پر وسیع ہے اور اس میں تقریباً 30 متحرک کہکشائیں شامل ہیں، جبکہ اس کا مرکزی حصہ تقریباً پانچ لاکھ نوری سال کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت کائنات کی ابتدائی تشکیل، کہکشاؤں کے ارتقا اور بلیک ہولز کے کردار کو سمجھنے میں نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف موجودہ فلکیاتی نظریات کو چیلنج ملا ہے بلکہ مستقبل کی تحقیق کے لیے بھی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخر کائنات کے آغاز میں اتنی طاقتور توانائی کے ذرائع کیسے اور کیوں موجود تھے۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں