اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برامپٹن کینیڈا کے اُن شہروں میں شمار ہوتا ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے آبادی، معاشی سرگرمی
اور شہری سہولیات کے پھیلاؤ کا مرکز رہے ہیں۔ خاص طور پر برامپٹن ٹرانزٹ سروس شہر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی رہی ہے، جس پر روزانہ ہزاروں افراد ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ مگر اب یہی ٹرانزٹ نظام اپنی تاریخ کے ایک مشکل موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
میئر پیٹرک براؤن کی جانب سے برامپٹن ٹرانزٹ سروسز میں ممکنہ بڑی کٹوتیوں کا عندیہ نہ صرف شہری انتظامیہ بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق 2025 تک ٹرانزٹ رائیڈر شپ میں تقریباً 20 فیصد کمی متوقع ہے، جو کسی بھی شہری ٹرانزٹ نظام کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ یہ کمی براہِ راست شہر کی آمدنی، خدمات کے معیار اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہو گی۔
امیگریشن پالیسی اور ٹرانزٹ کا تعلق
میئر براؤن نے اس صورتحال کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے امیگریشن اور سٹوڈنٹ ویزا پابندیوں کو قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی طلباء برامپٹن جیسے شہروں میں ٹرانزٹ سسٹم کے بڑے صارفین رہے ہیں۔ کالجوں، یونیورسٹیوں اور جزوقتی ملازمتوں کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں طلباء نے نہ صرف بسوں کو بھر رکھا تھا بلکہ ٹرانزٹ نظام کو مالی طور پر مستحکم رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
تاہم جب سٹوڈنٹ ویزا کی تعداد میں اچانک کمی آئی، تو اس کے اثرات صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہ رہے بلکہ ٹرانزٹ، رہائش، مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوئے۔ نومبر میں پیش کی گئی سٹی رپورٹ کے مطابق، برامپٹن کو ٹرانزٹ کرایوں میں تقریباً 26 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا معاشی بحران ہے۔
تضاد یا حقیقت پسندی؟
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا میئر براؤن اور سٹی کونسل کی پوزیشن میں تضاد ہے؟ ایک طرف وہ امیگریشن پابندیوں کو ٹرانزٹ بحران کی وجہ قرار دیتے ہیں، اور دوسری طرف خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سٹوڈنٹ ویزا پروگرام کو محدود کرنے کے حق میں تھے۔ بظاہر یہ موقف متضاد لگتا ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔میئر براؤن نے درست نشاندہی کی کہ جعلی "ڈپلومہ مل” کالجوں کے پھیلاؤ نے برامپٹن کو شدید مسائل سے دوچار کیا۔ غیر محفوظ رہائش، غیر قانونی کرایہ داری، رہائشی علاقوں میں بے ہنگم آبادی اور بنیادی سہولیات پر دباؤ وہ مسائل ہیں جن سے شہر پہلے ہی نبرد آزما تھا۔ ایسے میں سٹوڈنٹ ویزا کی اندھا دھند فراہمی ایک دیرپا حل نہیں تھی۔
قیمت کون ادا کرے گا؟
اصل سوال یہ ہے کہ ان پالیسی تبدیلیوں کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اگر ٹرانزٹ روٹس کم کیے جاتے ہیں تو سب سے زیادہ متاثر وہ شہری ہوں گے جو نجی گاڑی رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کم آمدنی والے خاندان، بزرگ شہری، طلباء (جو اب بھی موجود ہیں) اور معذور افراد کے لیے پبلک ٹرانزٹ محض سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔اگر بسیں کم ہوئیں، اوقات محدود کیے گئے یا کچھ روٹس مکمل طور پر بند کر دیے گئے، تو یہ افراد مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ لوگ مجبوراً مہنگے متبادل ذرائع استعمال کریں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہو گا اور معیارِ زندگی متاثر ہو گا۔
ایک اور اہم پہلو ماحولیاتی ہے۔ کینیڈا پہلے ہی ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج کم کرنے کے اہداف کا اعلان کر چکا ہے۔ پبلک ٹرانزٹ کی حوصلہ افزائی انہی اہداف کا حصہ ہے۔ اگر ٹرانزٹ سروسز کم کی جاتی ہیں تو زیادہ لوگ نجی گاڑیوں کا رخ کریں گے، جس سے ٹریفک، آلودگی اور شہری دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
حل کیا ہے؟
یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ میئر براؤن نے مکمل بندش کے بجائے "از سر نو جائزے” کی بات کی ہے۔ ٹرانزٹ روٹس اور وسائل کو حقیقی مانگ کے مطابق ڈھالنا ایک عملی اور ضروری قدم ہے۔ مگر اس عمل میں شفافیت، عوامی مشاورت اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔