اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز) لندن میں یہودی کمیونٹی کی ایمبولینسوں کو آگ لگانے کے سنگین واقعے میں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں پولیس نے مزید تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد کی عمریں 17 سے 20 سال کے درمیان ہیں، جنہیں شہر کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان سے واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس (میٹ پولیس) کے مطابق یہ واقعہ 23 مارچ کو پیش آیا تھا، جس میں یہودی کمیونٹی کی ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں پہلے سے گرفتار دو ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے۔حکام کے مطابق اس سے قبل بھی اسی الزام کے تحت کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، اور حالیہ گرفتاریاں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ پولیس نے واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسے ممکنہ طور پر نفرت انگیز جرم (ہِیٹ کرائم) کے زاویے سے بھی جانچنے کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ ایمبولینسیں ایک یہودی فلاحی ادارے کی ملکیت تھیں جو کمیونٹی کو ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر ان کے پاس اس واقعے سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر پولیس کو آگاہ کریں۔