اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم شخصیات کو ما ر دیا ہے ۔
اور ایرانی ملٹری کمان مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ایرانی اہلکار ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہیں جبکہ جو ہتھیار نہیں ڈالیں گے انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔واشنگٹن سے جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے (پاسدارانِ انقلاب) کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، ایرانی فضائی دفاعی نظام پر حملے کیے گئے اور 9 بحری جہازوں سمیت ایرانی بحریہ کی ایک عمارت کو بھی تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی مفادات کے تحفظ اور حالیہ ہلاکتوں کے ردعمل میں کی گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ “ایران کی پوری ملٹری لیڈرشپ ختم ہو چکی ہے” اور اگر پاسدارانِ انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں تو انہیں استثنا دیا جا سکتا ہے، بصورتِ دیگر سخت کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور امکان ہے کہ مزید امریکی ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں، تاہم امریکا اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لے گا۔امریکی صدر نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی شہریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر “اپنا ملک واپس لیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے کیونکہ ایران ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے خطے کے رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے جن میں Saudi Arabia، Bahrain، United Arab Emirates، Qatar اور Jordan شامل ہیں۔ ان کے بقول جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت کے قیام اور مثبت تبدیلیوں کے امکانات موجود ہیں۔تاحال ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ بین الاقوامی مبصرین نے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں اور ممکنہ سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔