اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ’’قوم کی تعمیر‘‘ کے عنوان سے سات بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر کے واضح کر دیا ہے کہ ملک اب ایک نئے اقتصادی دور میں داخل ہو رہا ہے۔
یہ منصوبے محض انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی ہیں جن کا مقصد معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا، جدید صنعتوں کو فروغ دینا اور توانائی و معدنی وسائل میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔ مجموعی طور پر ان منصوبوں کی مالی مالیت 116 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے، جو کینیڈا کی حالیہ تاریخ میں ترقیاتی اخراجات کی ایک بڑی مثال ہے۔ان منصوبوں میں شامل سیسن مائن (نیو برنسوک) ٹنگسٹن کی پیداوار کے ذریعے دفاعی، صنعتی اور ہائی اسٹرینتھ اسٹیل کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح اونٹاریو میں کرافورڈ نکل پروجیکٹ بیٹری اور اسٹیل سازی کے لیے روزانہ تقریباً 2.4 لاکھ ٹن ایسک تیار کرے گا، جو الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ دونوں منصوبے کینیڈا کو اہم معدنیات کی عالمی مارکیٹ میں مضبوط مقام دلانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔
برٹش کولمبیا میں کاسی لیسمس ایل این جی پروجیکٹ، جس کی مالیت 30 ارب ڈالر ہے، سالانہ 12 ملین ٹن مائع قدرتی گیس پیدا کرے گا اور اس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو برآمد ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں کینیڈا کی صلاحیت کو بڑھائے گا بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت میں بھی اضافہ کرے گا۔ نوناوٹ میں اقالوٹ ہائیڈرو پروجیکٹ شمالی علاقوں میں صاف توانائی کی پیداوار کا نیا باب کھولے گا، جہاں طویل عرصے سے بجلی کے قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی رہی ہے۔
کیوبیک میں Nouveau Monde Graphite Phase-II منصوبہ دفاعی صنعت اور بیٹری سازی کے شعبے کے لیے ضروری گریفائٹ فراہم کرے گا، جس کے بغیر جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور الیکٹرک گاڑیاں ممکن نہیں۔ دوسری جانب بی سی اور یوکون میں نارتھ کنسروریشن آئیڈیا اہم معدنیات کے حصول اور صاف بجلی کی ترسیل کے وسیع امکانات لیے ہوئے ہے۔ جبکہ شمالی بی سی میں نارتھ کوسٹ ٹرانسمیشن لائن مغربی ساحل تک کم لاگت اور صاف بجلی پہنچانے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیلی کام سہولیات کی فراہمی اور BC–Yukon کنکشن کے امکان کو بھی تقویت دیتی ہے۔ان تمام منصوبوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کینیڈا مستقبل میں توانائی اور معدنیات کی عالمی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ وزیر اعظم کارنی نے درست نشاندہی کی کہ یہ منصوبے امریکا پر انحصار کم کرنے، تجارتی راستوں کو متنوع بنانے اور کینیڈا کی طویل مدتی اقتصادی خود مختاری کے لیے ناگزیر ہیں۔
تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اتنے بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لیے ٹھوس حکومتی حکمت عملی، ماحولیاتی احتیاط، مقامی کمیونٹیز کی رضامندی اور صنعتی اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ بالخصوص شمالی علاقوں میں ترقیاتی کام مقامی ثقافت، ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھنے چاہئیں۔اس کے باوجود، یہ سات منصوبے کینیڈا کو ایک ایسے راستے پر ڈال رہے ہیں جو اسے مستقبل کی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔ اگر حکومت شفافیت، تیز رفتار عمل درآمد اور کمیونٹی شمولیت کو یقینی بناتی ہے تو آئندہ دہائی واقعی کینیڈا کی معاشی مضبوطی، توانائی خود کفالت اور عالمی اثر و رسوخ کی نئی تاریخ رقم کر سکتی ہے۔