اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر سخت مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات دو ریاستی حل کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر غیرقانونی کارروائیاں بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق حاصل ہونا چاہئیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی قابض کارروائیوں سے خطے میں امن اور استحکام متاثر ہوتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عرب امن منصوبہ ہی خطے میں پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اس منصوبے کے مطابق عمل کرنا ہی خطے کی سلامتی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنے غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے، تاکہ امن کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی کوئی قانونی خودمختاری نہیں ہے اور مقبوضہ زمین پر غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہو کر کارروائی کرنی ہوگی۔ اس موقع پر بیان میں واضح کیا گیا کہ خطے کی مستقل سلامتی صرف عرب امن منصوبے کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہ اقدامات فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان سمیت ان ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔