ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ امن معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ رک نہ سکا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر مختلف علاقوں میں حملے کیے جن میں مزید فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق، غزہ سٹی کے علاقے شجاعیہ میں اسرائیلی فورسز نے فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں، جن میں پانچ فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ جنوبی غزہ کے شہر خانیونس میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 250 سے زائد شہدا کی لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی جا چکی ہیں، تاہم بھاری مشینری اور دھماکہ خیز آلات کی کمی کے باعث یہ کام نہایت سست رفتاری سے جاری ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے سنگدلانہ تشدد، اذیت اور تذلیل کی لرزہ خیز کہانیاں سنائیں۔ ایک سابق قیدی نے بتایا کہ "عوفر جیل ایک ذبح خانہ بن چکی تھی” جہاں قیدیوں کو انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔
مزید برآںانٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو اسرائیل کی جانب سے 45 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں موصول ہوئیں، جب کہ تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جن میں سے 154 کو مصر منتقل کیا گیا۔غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 67 ہزار 869 فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار 105 زخمی ہو چکے ہیں۔مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، کیونکہ امن معاہدے کے باوجود فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔