اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)صدر پاکستان آصف علی زرداری نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (تنظیمِ نو) ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ملک میں قومی کینسر رجسٹری قائم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد کینسر کے اصل بوجھ کو سمجھنا اور اس کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بل کی منظوری صحت کے شعبے میں اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔ بل کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈھانچے اور گورننس کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہو اور کینسر کے مریضوں کا ڈیٹا مؤثر انداز میں اکٹھا کیا جا سکے۔
قومی کینسر رجسٹری کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی تفصیلات ایک مرکزی ذخیرے میں محفوظ ہوں، تاکہ مرض کے اصل بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکے اور اس کی روک تھام کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد ممکن ہو۔ رجسٹری میں تصدیق شدہ کینسر کیسز، اموات، صحتیابیاں، ہسپتالوں میں زیرِ التوا کیسز اور آبادیاتی معلومات شامل ہوں گی، جبکہ مریض کے ذاتی کوائف بغیر پیشگی تحریری اجازت کسی غیر مجاز شخص کو فراہم نہیں کیے جائیں گے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کینسر کے کیسز غیر معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔ گلوبل کینسر آبزرویٹری کے مطابق 2020 میں پاکستان میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ 78 ہزار 388 تھی، جو صرف پنجاب کے کچھ حصوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی 22 کروڑ کے تناظر میں یہ اعدادوشمار کینسر کے اصل بوجھ کی صحیح عکاسی نہیں کرتے۔
اسی روز صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دی، تاکہ چینی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں پر انسدادِ ڈمپنگ ڈیوٹیز کے نفاذ کے حوالے سے قانونی وضاحت فراہم کی جا سکے۔ یہ ڈیوٹیز یکم جولائی 2020 سے مؤثر ہوں گی۔
صدر کے پریس ونگ کے مطابق دونوں اقدامات صحت کے شعبے میں اصلاحات، قانون سازی اور ادارہ جاتی مضبوطی کی جانب اہم اقدامات ہیں۔