اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا میں مقامی بچوں کی جبری رہائش گاہوں (ریزیڈنشل اسکولز) کی تاریخ کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے برینٹ فورڈ میں سابق موہاک انسٹیٹیوٹ ریزیڈنشل اسکول کو ایک نیا ثقافتی و تعلیمی مرکز بنا دیا گیا ہے۔
یہ مرکز 30 ستمبر کو نیشنل ڈے فار ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کے موقع پر عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
موہاک انسٹیٹیوٹ کینیڈا کا پہلا اور سب سے طویل عرصے تک چلنے والا ریزیڈنشل اسکول تھا جو 1970 میں بند ہوا۔ تقریباً 140 سال تک ہزاروں مقامی بچوں کو زبردستی ان کے خاندانوں سے الگ کر کے یہاں لایا گیا۔
اب اسی عمارت میں ان بچوں کی کہانیاں محفوظ کی گئی ہیں اور ان کے تجربات کو یاد رکھنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
ثقافتی مرکز میں کلاس روم، لانڈری روم اور دیگر حصے اصل حالت میں بحال کیے گئے ہیں تاکہ وزیٹرز انہی راہداریوں میں چل سکیں جہاں کبھی یہ بچے رہتے تھے۔ یہاں زندہ بچ جانے والے افراد کے ذاتی بیانات اور انٹرویوز بھی موجود ہیں تاکہ لوگ ان کے دکھ اور جدوجہد کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
موہاک انسٹیٹیوٹ کی سابقہ طالبہ رابرٹا ہل نے کہایہ عمارت ہماری اور کینیڈا کی تاریخ سناتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگ آ کر سمجھیں کہ ہم پر کیا بیتی تھی۔ یہ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ وقت تھا۔”
مرکز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ماضی کو یاد رکھنے بلکہ آئندہ نسلوں کو تعلیم دینے اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔