اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا کے صدر کو “منشیات فروش” قرار دینے اور تجارتی ٹیرف (درآمدی محصولات) عائد کرنے کی دھمکی
کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، کولمبیا نے فوری طور پر امریکہ میں تعینات اپنے سفیر ڈینیئل گارشیا پینا (Daniel Garcia-Peña) کو واپس بُلا لیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات اور ممکنہ تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد کیا گیا۔کولمبیا کی وزارتِ خارجہ نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ “امریکہ کی جانب سے ایسے غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کولمبیا کسی بھی ملک کی دھمکیوں کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک خطاب میں کولمبیا کو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ “امریکہ اب کولمبیا کو کوئی مالی امداد فراہم نہیں کرے گا” اور اس کے ساتھ **درآمدی محصولات بڑھانے پر غور کر رہا ہے ۔یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کولمبیا نے امریکی بحریہ کی جانب سے بحیرۂ کیریبین میں منشیات بردار کشتیوں پر حملوں کی مذمت کی۔ کولمبیا کے مطابق ان حملوں میں درجنوں شہری مارے گئے جن میں تین افراد ایک غریب مقامی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو (Gustavo Petro) نے ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ حملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ امریکہ نے ہماری خودمختاری کی توہین کی ہے۔”جواب میں صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر کو “منشیات فروشوں کا ہمدرد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم ایسے ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات پر نظرِ ثانی کریں گے جو ہمارے اتحادی ہونے کے باوجود منشیات مافیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔”صدر پیٹرو نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئی تاجر نہیں، نہ منشیات فروش۔ میرے دل میں لالچ نہیں، لیکن میں اپنے ملک کی عزت پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔”کولمبیا کے سیاسی حلقوں میں صدر پیٹرو کے اس مؤقف کو **قومی وقار کا دفاع** قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع **خطے میں امریکہ کے اثرورسوخ** کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتا ہے۔