اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)آب و ہوا میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر دارالحکومت اوٹاوا کے حکام نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ شہر کو ممکنہ قدرتی آفات کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی کمیٹی نے “کلائمیٹ ریڈی اوٹاوا” کے نام سے ایک منصوبہ منظور کیا ہے جو آئندہ پانچ سالوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو موسمیاتی اثرات سے بچانا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سیلاب، شدید گرمی، بدلتے موسم اور تباہ کن طوفان شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت سیلاب سے نمٹنے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، گرمی سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی تیاری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں گے۔
اس مقصد کے لیے آئندہ پانچ سالوں میں 25 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ مزید 149.5 ملین ڈالر پانی کے نظام اور دیگر اہم خدمات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تاکہ سیلاب کے خلاف مزاحمت کو بڑھایا جا سکے۔یہ منصوبہ 2020 سے جاری ہے جس میں متعدد مطالعات اور عوامی مشاورت شامل رہی ہے۔
کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ کلائمیٹ ریڈی اوٹاوا شہر کے لیے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے ایک جامع اور جدید طریقہ کار کی نمائندگی کرتا ہے۔
ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے محکمے کی ایک تحقیق کے مطابق موسمیاتی خطرات سے بچاؤ پر خرچ کیے گئے ہر ایک ڈالر کے بدلے میں شہر 13 سے 15 ڈالر کی بچت کرتا ہے کیونکہ قدرتی آفات کے بعد بحالی کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔
ایک مشترکہ مطالعے کے مطابق 2050 تک اوٹاوا کا موسم زیادہ گرم اور مرطوب ہو جائے گا اور برفانی طوفانوں اور تیز ہواؤں جیسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب ایک قومی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کینیڈا میں تقریباً 2.3 فیصد افراد موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ایسی شدید بے چینی کا شکار ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈالتی ہے۔
تحقیق کے مطابق خواتین، نوجوان نسل، شمالی علاقوں کے رہائشی، کم آمدنی والے افراد اور شہری مراکز میں رہنے والے لوگ اس بے چینی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اثر مقامی (انڈیجینس) آبادی پر دیکھا گیا۔
ایک اور مطالعے میں 37 فیصد کینیڈین نوجوانوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق فضا میں کاربن کے اخراج اور ایندھن کے زیادہ استعمال سے بڑھتی عالمی حدت نہ صرف موسم کو بلکہ انسانی صحت کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی، جنگلاتی آگ، اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔