جونیئر ہاکی ورلڈکپ ،پاکستان کا قومی ٹیم بھارت بھیجنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ

اردو ورلڈ کینڈا ( ویب نیوز )  حکومت پاکستان نے بھارت میں ہونے والے جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کو شرکت کے لیے نہ بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد کیا، جس میں کھلاڑیوں کی سیکورٹی خدشات کو مدنظر رکھا گیا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے اس فیصلے سے **انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH)  کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 28 نومبر سے بھارت کے شہر چنئی میں شروع ہو رہا ہے، جس میں پہلی بار 24 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ پاکستان کو پول "بی” میں رکھا گیا تھا جہاں میزبان بھارت، چلی اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ قومی ٹیم کا پہلا میچ 28 نومبر کو سوئٹزرلینڈ کے خلاف، دوسرا 29 نومبر کو بھارت کے خلاف اور تیسرا 2 دسمبر کو چلی کے خلاف شیڈول تھا۔پاکستانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی یا سفارتی بنیاد پر نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ تاہم، کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی تجربے کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔
بھارت میں ہونے والا یہ میگا ایونٹ عالمی سطح پر ہاکی کے مستقبل کے ستاروں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی غیر موجودگی یقیناً ٹورنامنٹ کے تاثر اور برصغیر کی روایتی ہاکی رقابت میں کمی کا باعث بنے گی۔
پاکستان کی حکومت کا یہ فیصلہ کہ جونیئر ہاکی ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے، بظاہر ایک سیکورٹی پر مبنی قدم ہے، مگر اس کے اثرات محض کھیل تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کھیلوں کی سفارتکاری کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔بلاشبہ، کھلاڑیوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور اگر بھارت میں حالات واقعی غیر محفوظ ہیں تو یہ فیصلہ قابلِ فہم ہے۔ لیکن دوسری جانب، کھیل ہمیشہ **امن، مکالمے اور تعلقات میں بہتری** کا ذریعہ رہے ہیں۔ کھیلوں کے دروازے بند کرنا اکثر دشمنی کو کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیتا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لیے یہ لمحۂ افسوس ہے کیونکہ جونیئر کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر کھیلنے اور تجربہ حاصل کرنے کا نایاب موقع ضائع ہو گیا۔ ایسے فیصلے وقتی طور پر درست محسوس ہو سکتے ہیں، مگر ان کے اثرات نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل پر دیرپا ہو سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھیں اور اگر کسی ملک میں سیکورٹی کے خدشات موجود ہوں، تو ان کے حل کے لیے بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے، نہ کہ مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔کھیل کے میدان میں ہر میچ صرف جیت یا ہار نہیں بلکہ **قوم کی ساکھ، برداشت اور رویے کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں پاکستان کھیلوں کو سفارتی تعلقات کی بہتری کے لیے ایک پل کے طور پر استعمال کرے گا، دیوار کے طور پر نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں