اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک او راسرائیلی یرغمالی کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔
یہ حوالگی ریڈ کراس کی نگرانی میں عمل میں آئی۔اسرائیلی فوج کے مطابق، یہ لاش تل ابیب میں واقع ابو کبیر فرانزک انسٹیٹیوٹ (Abu Kabir Forensic Institute) منتقل کر دی گئی ہے، جہاں ماہرین اس کی شناخت کے عمل میں مصروف ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لاش کی مکمل شناخت میں تقریباً دو دن لگ سکتے ہیں۔
حماس اب تک 17 لاشیں واپس کر چکی
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس اس سے قبل 16 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر چکی ہے، جبکہ اب تک 12 یرغمالیوں کی لاشیں حماس کے قبضے میں بتائی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، یہ عمل ریڈ کراس کے توسط سے جاری ہے تاکہ باقی ماندہ لاشوں کی بازیابی بھی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے مصری تکنیکی ٹیم کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہ مارے گئے یرغمالیوں کی تلاش میں معاونت فراہم کر سکیں۔اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق “ریڈ کراس اور مصری ماہرین کی ٹیموں کو اسرائیلی فوج کی ‘ییلو لائن’ (Yellow Line) پار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ وہ غزہ کے مختلف علاقوں میں لاشوں کی تلاش کا کام انجام دے سکیں۔”
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے پر انسانی بنیادوں پر مذاکرات جاری ہیں۔گزشتہ کئی ماہ سے غزہ میں جاری لڑائی کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی اور شہری یرغمال بنائے جانے کے بعد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی لاشیں حماس کے قبضے میں ہیں۔بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص ریڈ کراس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت **لاشوں کی بازیابی اور یرغمالیوں کی رہائی کے عمل کو تیز کیا جائے۔