کینیڈا کا عدم اعتماد،جعلی ویزا نیٹ ورک نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں بھارتی شہریوں کے عارضی ویزوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے امکان نے سفارتی سطح پر ہلچل مچا دی ہے

بھارت کی امیگریشن ساکھ پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی پاسپورٹ دنیا بھر میں شکوک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو، مگر اس بار معاملہ زیادہ سنگین ہے — اس بار ایک پورا ملک کسی ایک فرد یا گروہ نہیں بلکہ **ایک منظم، بڑے پیمانے پر ہونے والی جعلسازی** کو بنیاد بنا کر نئی پالیسی لاگو کرنے پر غور کر رہا ہے۔
کینیڈا کے امیگریشن اور بارڈر سروسز اداروں نے حکومت سے اجتماعی طور پر ویزے منسوخ کرنے کا اختیار اس لیے مانگا ہے کہ بھارتی اور بنگلادیشی درخواستوں میں فراڈ، جعلی دستاویزات اور جھوٹی معلومات کے کیسز تشویش ناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہ بات کسی ایک دفتر یا افسر کی شکایت نہیں — بلکہ **ریاستی سطح پر تسلیم شدہ خطرہ** ہے۔
یہ وہی بھارت ہے جو دنیا میں سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر اسی کے شہری دنیا بھر میں جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس، فرضی بینک اسٹیٹمنٹس اور جھوٹے انٹینشن لیٹرز کے ذریعے ویزا نظام کا ناجائز فائدہ اٹھانے میں بدنام ہو چکے ہیں۔ کینیڈا نے چاہا تو قانون میں تبدیلی کر کے **ایک جھٹکے میں لاکھوں ویزے منسوخ کر سکتا ہے** — اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف بھارت کے لیے نہیں، اس کے ’سافٹ پاور‘ بیانیے کے لیے بھی ایک سفارتی تھپڑ ہوگا۔
بھارتی حکومت اگر واقعی عالمی سطح پر عزت چاہتی ہے تو اسے بیرونِ ملک اپنے شہریوں کے بڑھتے ہوئے غیرقانونی نیٹ ورکس، اسمگلنگ چینلز، جعلی ایجنٹس اور انسانی اسمگلنگ کے کاروبار پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دہلی حکومت بیرونِ ملک تنقید سننے کے بجائے ہمیشہ سفارتی شوروغل سے **’ہندوستان کی توہین‘** کا ڈھال بنا لیتی ہے — جبکہ دنیا اب بیانیے نہیں، ڈیٹا اور ثبوت دیکھتی ہے۔
آج سوال کینیڈا کا نہیں، بھارت کا ہے کیا وہ واقعی ایک ذمہ دار عالمی ریاست بننا چاہتا ہے؟یا پھر اس کی شہریت، اس کے ویزے اور اس کے پاسپورٹ دنیا میں مزید بے اعتبار ہوتے چلے جائیں گے؟
اگر بھارت نے اصلاحات کے بجائے ضد اور مگرمچھ کے آنسو دکھانے کی پالیسی اختیار کی، تو پھر وہ دن دور نہیں جب صرف کینیڈا نہیں، یورپ، آسٹریلیا، خلیجی ممالک اور برطانیہ بھی اسی ماڈل پر چلنا شروع کر دیں گے — اور پھر بھارتی شہریوں کے لیے دنیا کی سرحدیں تنگ تر ہوتی چلی جائیں گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں