اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی ریاست ورجینیا میں گورنر کے انتخابی نتائج نے نہ صرف سیاسی منظرنامہ بدلا ہے بلکہ تاریخ بھی رقم کر دی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار ایبی گیل اسپین برگ نے ریپبلکن امیدوار ونسم ارل سیئرز کو شکست دے کر ریاست کی پہلی خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے
ایک ایسی ریاست جہاں کبھی روایتی سیاست اور رجعت پسند سوچ کا غلبہ تھا، آج وہاں ایک خاتون کی تاریخی کامیابی نئے سیاسی بیانیے کی فتح ہے۔اس جیت کے پیچھے صرف پارٹی یا انتخابی حکمتِ عملی نہیں بلکہ وہ سماجی تبدیلی بھی ہے جو امریکہ کے سیاسی ڈھانچے میں خاموشی سے مگر مسلسل جنم لے رہی ہے۔ ایبی گیل اسپین برگر کی کامیابی یہ اشارہ ہے کہ اب امریکی عوام صنف، نسل اور روایت کے دائرے سے باہر نکل کر قیادت کو اہلیت کی بنیاد پر پرکھنے لگے ہیں۔
لیکن اس انتخاب کی اہمیت صرف گورنر کی کرسی تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ہی لیفٹیننٹ گورنر کے انتخاب میں **غزالہ ہاشمی** کی برتری نے جنوبی ایشیائی، مسلم اور مہاجر برادری کے لیے ایک نئی علامت پیدا کر دی ہے۔ اگر غزالہ ہاشمی کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ نہ صرف ورجینیا کی پہلی مسلم خاتون لیفٹیننٹ گورنر ہوں گی بلکہ امریکہ میں جنوبی ایشیائی خواتین کی سیاسی نمائندگی کا نیا باب کھول دیں گی۔
غزالہ ہاشمی کی انتخابی کامیابی صرف امریکی سیاست کا سوال نہیں، بلکہ اس بیانیے کی جیت ہے جس کے مطابق امیگریشن پس منظر رکھنے والے شہری اب امریکی سیاست کے "پردیسی” نہیں رہے — وہ اس نظام کے اندر اپنی شناخت اور کردار ثابت کر رہے ہیں۔ یہ لمحہ خاص طور پر بھارت، پاکستان، بنگلادیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی برادری کے لیے ایک غیر معمولی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
اس انتخاب نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ امریکہ کی سیاست میں تبدیلی اب اوپر سے نہیں، نیچے سے اٹھ رہی ہے — ووٹ کے ذریعے، شعور کے ذریعے، اور اس سوال کے ذریعے: **قیادت کس بنیاد پر منتخب ہونی چاہیے؟ورجینیا کا یہ سیاسی موڑ نہ صرف ڈیموکریٹس کے لیے فتح ہے، بلکہ اس سوچ کے لیے بھی ہے جو بتاتی ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کے ہاتھوں نہیں بلکہ سماج کے بدلتے ذہنوں کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے۔آج امریکہ میں صرف ایک گورنر منتخب نہیں ہوئی — آج روایت ٹوٹی ہے، بند دروازہ کھلا ہے، اور وہ سیاسی تاریخ لکھنا شروع ہوئی ہے جس میں خاتون ہونا کمزوری نہیں، قیادت کی تکمیل سمجھا جانے لگا ہے۔