اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ کینیڈا میں مقیم زیادہ تر تارکینِ وطن خود چاہتے ہیں کہ ملک میں امیگریشن کی سطح موجودہ حکومتی منصوبے سے کم ہو۔
منگل کو پیش کیے گئے وفاقی بجٹ میں حکومت نے اعلان کیا کہ 2026 سے 2028 تک ہر سال 3 لاکھ 80 ہزار مستقل رہائشیوں (پرمننٹ ریزیڈنٹس) کو داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ 2025 کے 3 لاکھ 95 ہزار کے مقابلے میں کچھ کم ہے، لیکن پھر بھی وہ سطح نہیں جو زیادہ تر تارکینِ وطن پسند کرتے ہیں۔
او ایم این آئی نیوز کے لیے لیجر پولنگ کمپنی کے ذریعے کیے گئے ایک سروے میں 1,510 تارکینِ وطن سے رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق، دو تہائی شرکاء نے کہا کہ کینیڈا کو سالانہ 3 لاکھ سے کم امیگرنٹس کو قبول کرنا چاہیے، جب کہ چار میں سے ایک نے کہا کہ یہ تعداد 1 لاکھ سے بھی کم ہونی چاہیے۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جو افراد کینیڈا میں طویل عرصے سے مقیم ہیں، وہ نئے آنے والوں کے مقابلے میں امیگریشن کی کم سطح کے حامی ہیں۔
دوسری جانب نوجوان شرکاء اور حالیہ تارکینِ وطن نسبتاً زیادہ امیگریشن کے حق میں تھے۔اعداد و شمار کے مطابق صرف 10 فیصد شرکاء نے کہا کہ کینیڈا کو سالانہ 3 لاکھ سے زیادہ امیگرنٹس کو خوش آمدید کہنا چاہیے، جب کہ 25 فیصد نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے عارضی رہائشیوں کے لیے سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں، جن میں بین الاقوامی طلبہ کے اسٹڈی پرمٹس پر حد اور زندگی کے اخراجات کے معیار میں ترمیم شامل ہیں۔
یہ سروے 2 سے 15 اکتوبر کے درمیان کیا گیا تھا، اور مکمل نتائج، جن میں عارضی غیر ملکی مزدوروں سے متعلق آراء بھی شامل ہیں، اس ماہ کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔