اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)نیویارک سٹی کی سیاست میں ایک تاریخی موڑ آیا ہے جب 34 سالہ ریاستی قانون ساز ذ ہران ممدانی نے منگل کے روز شاندار کامیابی کے ساتھ سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو شکست دے کر میئر کا انتخاب جیت لیا۔
ممدانی جو ڈیموکریٹک پارٹی کے انتہائی ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں آنے والے عشروں میں شہر کے سب سے لبرل میئر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
یہ کامیابی نہ صرف ان کی سیاسی عروج کی علامت ہے بلکہ ایک تاریخی سنگِ میل بھی ہے کیونکہ ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان، جنوبی ایشیائی نژاد اور افریقہ میں پیدا ہونے والے پہلے میئر بن گئے ہیں وہ پچھلی ایک صدی میں سب سے کم عمر میئر بھی ہوں گےجب وہ یکم جنوری کو عہدہ سنبھالیں گے۔
انتخابی تاریخ کا نیا ریکارڈ
نیویارک سٹی الیکشن بورڈ کے مطابق 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اس انتخاب میں ووٹ ڈالا جو گزشتہ 50 برسوں میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔
تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ممدانی کو کومو پر 9 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی گورنر کیتھی ہوکول نے سماجی پلیٹ فارم X پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممدانی کے ساتھ مل کر شہر کو زیادہ قابلِ برداشت اور رہنے کے قابل بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ترقی پسند ڈیموکریٹس کی فتح
ممدانی کی غیر متوقع جیت نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ان رہنماؤں کو تقویت دی ہے جو سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو اب سینٹر کے بجائے بائیں بازو کے امیدواروں کو آگے لانا چاہیے۔ان کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ شہری ووٹر اب نئے خیالات اور سماجی انصاف پر مبنی ایجنڈا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن رہنماؤں نے ممدانی کو “ریڈیکل ڈیموکریٹس کا چہرہ قرار دیتے ہوئے انہیں خطرہ قرار دیا۔
ٹرمپ نے انتخاب سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ممدانی جیت گئے تو وہ نیویارک سٹی کا وفاقی فنڈ بند کر دیں گے اور یہاںتک کہ شہر کا انتظام سنبھالنے کی بات بھی کی تھی۔
کامیابی کا جشن اور جذباتی مناظر
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد، بروکلین میں ممدانی کے انتخابی دفتر میں جشن کا سماں تھا حامی ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے کچھ کی آنکھوں میں آنسو تھےجب کہ نیویارک سٹی کا سرکاری پرچم فضا میں لہرایا گیا۔
کومو کا ردعمل اور شکست کی تسلیم
کومو نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہایہ ایک انتباہ ہے کہ ہم ایک خطرناک راستے پر جا رہے ہیںانہوں نے اپنے حامیوں کو ممدانی کے نام پر نعرے بازی سے روکا اور کہانہیں، یہ درست نہیں۔ آج رات ان کی رات ہے اور میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہوں۔
پولیس اور اسرائیل پالیسی پر تنقید
ممدانی کے سامنے ایک بڑا امتحان نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق فیصلے ہوں گےوہ 2020 میں پولیس کو ایک باغی ادارہ اورنسل پرست” قرار دے چکے ہیں بعد میں انہوں نے ان بیانات پر معذرت کی اور کہا کہ وہ موجودہ پولیس کمشنر سے خدمات جاری رکھنے کی درخواست کریں گے۔
اسی طرح ان کا فلسطین کے حق میں مؤقف بھی متنازعہ رہا انہوں نے اسرائیل پر “نسل کشی” کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کو احتراماً نافذ کریں گے۔
نئی سیاست، نیا نیویارک
سیاسی ماہرین کے مطابق ممدانی کی کامیابی نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکا میں ترقی پسند سیاست کی نئی لہر کا آغاز ہے جیسا کہ ڈیموکریٹک رہنما الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے کہا ہم وائٹ ہاؤس میں موجود بدمعاشوں اور دھمکی دینے والوں کے خلاف کھڑے ہوں گے۔