اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ملک کے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کراچی میں سموگ کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 186 تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث کراچی کو دنیا کے دوسرے نمبر کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق فضا میں مضر صحت ذرات کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث شہریوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ اسپتالوں میں سانس کی بیماریوں، آنکھوں میں جلن اور گلے کی تکالیف کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
عالمی درجہ بندی کے مطابق بھارتی شہر کولکتہ اس وقت دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن چکا ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 250 ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کراچی دوسرے نمبر پر اور لاہور پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ لاہور میں اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں سموگ کی شدت میں معمولی کمی ہوئی ہے، تاہم اس کا ایئر انڈیکس اب بھی 182 پر برقرار ہے، جو صحت کے لیے خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔
ادھر پنجاب حکومت اور محکمہ ماحولیات نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق آلودگی پھیلانے والے متعدد صنعتی یونٹس، بھٹے اور فیکٹریاں سیل کر دی گئی ہیں، جب کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں سموگ کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے نہ صرف شہری صحت بلکہ ٹریفک نظام اور پروازوں کی روانی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال لازمی بنائیں اور بچوں و بزرگوں کو آلودہ فضا سے محفوظ رکھیں۔