اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے بالائی سیاحتی علاقوں میں برفباری نے موسم سرما کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ پہاڑوں پر برف کے نئے سلسلے نے جہاں دلکش مناظر کو جنم دیا ہے، وہیں نظامِ زندگی اور سفر کے معاملات کو بھی متاثر کر دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔ بابوسر ٹاپ، نانگا پربت اور بٹوگاہ سمیت کئی بلند پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق 12 سے زائد گاڑیاں برف میں پھنس گئی ہیں، تاہم ریسکیو ٹیمیں متاثرہ مسافروں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔
علاقے کے باسیوں کا کہنا ہے کہ برفباری سے سردی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جب کہ بجلی اور گیس کی فراہمی میں بھی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ کئی دیہات میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر خیبرپختونخوا کے سیاحتی خطوں سوات، دیر، کالام، ایوبیہ، نتھیا گلی اور چھانگلہ گلی میں بھی برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ بالائی گلیات میں 2 سے 3 انچ تک برف ریکارڈ کی گئی ہے۔ اپر ہزارہ ڈویژن میں موسم سرما کی پہلی بارش اور ژالہ باری کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، یہاں تک کہ دن کے اوقات میں بھی رات جیسی ٹھنڈک محسوس کی جا رہی ہے۔
مظفرآباد اور وادی نیلم میں بارش اور برفباری نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پہاڑی علاقوں کی سڑکوں پر پھسلن کے باعث احتیاط برتیں۔
دوسری جانب پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی مختلف مقامات پر مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ برفباری کے دوران آمد و رفت بحال رکھنے، سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کے لیے تیار رہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد درجہ حرارت مزید نیچے جا سکتا ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گرم لباس کے ساتھ ضروری سامان رکھیں اور موسم کی پیشگوئی پر نظر رکھیں۔