میرا نام مم-دا-نی ہے، کومو صاحب ،ایک جملہ جس نے نیویارک کی سیاست بدل دی،مسٹر الائچی سے سیاست کے اسٹیج تک

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکہ کی سیاست میں ایک نیا باب رقم ہوگیا ہے صرف 34 سالہ زہران ممدانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھلی مخالفت کے باوجود، نیویارک جیسے بڑے اور بااثر شہر کے میئر کے انتخاب میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔

چند ماہ پہلے تک ممدانی کا نام سیاست کے بڑے حلقوں میں زیادہ معروف نہیں تھا۔ لیکن ان کا سفر ایک ہپ ہاپ آرٹسٹ اور ہاؤسنگ کونسلر سے نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے رکن اور اب ملک کے سب سے بڑے شہر کے ممکنہ میئر تک نہایت متاثر کن ہے۔

عام شہریوں کی سیاست،روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ

زہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں وہ موضوعات چھیڑے جنہیں عام شہری روز مرہ محسوس کرتے ہیں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ نیویارک جیسے مہنگے شہر میں سستی رہائش، مفت بس سروس اور چائلڈ کیئر جیسی سہولیات عام لوگوں کی پہنچ میں لائیں گے۔

ان کے مخالف سابق گورنر اینڈریو کومو، ایک امیر اور روایتی سیاستدان سمجھے جاتے ہیں جن پر جنسی ہراسانی کے الزامات بھی لگ چکے ہیں زہران ممدانی نے خود کو اس کے برعکس عوام میں سے ایک قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ “ارب پتیوں کے دن ختم ہو رہے ہیں، اب عام شہریوں کی باری ہےالبتہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبے مالی طور پر غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔

خاندان اور پس منظر
زہران ممدانی کا پورا نام زہران کوامے ممدانی ہے ان کی پیدائش 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ہوئی۔ ان کے والد معروف دانشور اور پروفیسر محمود ممدانی، سیاست اور عالمی امور کے ماہر ہیں جبکہ والدہ میرا نائر مشہور فلم ساز ہیں جنہوں نے مون سون ویڈنگ” اور “دی نیم سیک” جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ فلمیں بنائیں۔
ممدانی نے اپنا بچپن کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ) میں گزارا، مگر سات سال کی عمر میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک منتقل ہو گئے۔ انہوں نے برونکس کے ایک ورکنگ کلاس محلے میں پرورش پائی ایک ایسا علاقہ جو ثقافتی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے انہوں نے افریقانا اسٹڈیز میں تعلیم حاصل کی اور طالب علمی کے زمانے سے ہی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے۔2024 میں ان کی شادی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ راما دواجی سے ہوئی۔
سماجی خدمت سے سیاست تک
تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ممدانی نے بطور فورکلوزر پریوینشن کونسلر کام کیا یعنی وہ خاندانوں کی مدد کرتے تھے جو قرض یا مالی دباؤ کی وجہ سے اپنے گھروں سے بے دخل ہونے کے خطرے میں ہوتے تھے۔یہی تجربہ بعد میں ان کی فلاحی سیاست کی بنیاد بنا وہ مانتے ہیں کہ حکومت کا اصل مقصد “لوگوں کو تحفظ دینا، نہ کہ نظام کو سہارا دیناہے۔
مسٹر الائچی‘ سے سیاستدان تک کا سفر
سیاست میں آنے سے پہلے زہران ممدانی فنون لطیفہ سے وابستہ رہے۔ وہ “مسٹر کارڈیمم کے نام سے ریپ موسیقی کیا کرتے تھے۔ 2019 میں ان کا گانا “نانی” خاصا مقبول ہوا جس میں معروف بھارتی اداکارہ مدھور جعفری نے ایک نڈر نانی کا کردار نبھایا۔ایک اور گانے میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی نے بھی ان کا ساتھ دیا، جو بعد ازاں ان کی انتخابی مہم میں بھی حمایت کرتے نظر آئے۔زہران ممدانی کا ماننا ہے کہ “فنکار معاشرے کے اصل کہانی کار ہوتے ہیں — اور سیاست کو ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہیے، محض تصویروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
سیاست میں تاریخی کامیابی
2020 میں زہران نے نیویارک سٹیٹ اسمبلی کا انتخاب لڑا اور دس سال سے جیتنے والے موجودہ رکن کو شکست دے کر تاریخ رقم کی وہ ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والے پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈا نژاد، اور صرف تیسرے مسلمان سیاستدان بنے۔
ترقی پسند منشور روٹی، کپڑا، مکان اور عوامی نقل و حمل
ممدانی کی مہم عام شہریوں کے مسائل پر مرکوز رہی۔ انہوں نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانے کے نظام کو “زیادہ منصفانہ اور عوام دوست” بنانے کا عزم ظاہر کیا ان کی تقاریر میں اکثر سوشلسٹ نظریات کی جھلک نظر آتی تھی کہ وسائل پر چند ہاتھوں کی اجارہ داری ختم کر کے انہیں سب کے درمیان بانٹا جائے۔اگرچہ نیو یارک ٹائمز جیسے معتبر ادارے ان کے معاشی منصوبوں کو “مالی طور پر مشکل” قرار دیتے ہیں، مگر نوجوان ووٹرز اور تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے انہیں “تبدیلی کی آواز” کے طور پر سراہا۔
بالی وڈ سے سیاست تک کا رنگ
زہران کی انتخابی مہم منفرد اور مزاحیہ انداز میں پیش کی گئی۔ایک مشہور ویڈیو میں وہ آم کی لسی کے پانچ گلاس اٹھائے ہوئے نیویارک کے رینکڈ چوائس ووٹنگ سسٹم کی وضاحت کرتے ہیں جس میں ووٹر امیدواروں کو پہلی سے پانچویں ترجیح تک درجہ دیتے ہیں۔ان کی والدہ، میرا نائر، جنہیں فلمی دنیا میں تخلیقی کہانیاں سنانے کے لیے جانا جاتا ہے، اکثر ان کی مہم کے کلپس دیکھ کر حیران ہوتی ہیں کہ “یہ تو کسی فلم جیسا لگتا ہے۔
مباحثوں میں خوداعتمادی کا مظاہرہ
ایک ٹی وی مباحثے میں جب ان کے مخالف اینڈریو کومو نے بار بار ان کا نام غلط ادا کیا تو زہران نے نرمی مگر عزم کے ساتھ کہا:“میرا نام مَم-دا-نی ہے، کومو صاحب اور ہاں، میں نے کبھی شرمندگی کے باعث استعفیٰ نہیں دیا، نہ ہی میڈیکیڈ میں کٹوتی کی اور نہ ہی کسی خاتون کے زچگی ریکارڈ پر مقدمہ کیا کیونکہ میں آپ نہیں ہوں۔”یہ جملہ لمحوں میں وائرل ہوگیا اور زہران کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ کا باعث بنا۔

مہم، حمایت اور تنازعات
زہران کی حمایت میں نوجوان ووٹرز، تارکینِ وطن اور ترقی پسند تنظیمیں پیش پیش رہیں۔ان کی انتخابی ٹیم کے مطابق، مہم کے دوران 40 ہزار رضاکاروں نے 10 لاکھ سے زیادہ گھروں تک دستک دی۔مہم کے دوران اردو، ہندی، بنگلہ، ہسپانوی اور انگریزی زبانوں میں پیغامات جاری کیے گئے تاکہ ہر طبقے تک رسائی ممکن ہو۔کچھ گروہوں نے زہران پر اسرائیل مخالف مؤقف اختیار کرنے کا الزام لگایا، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہود مخالف نہیں بلکہ انسانی حقوق کے حامی ہیں، اور وہ “ہر مذہب اور قوم کے لیے برابری” پر یقین رکھتے ہیں۔

زہران ممدانی کی بڑھتی مقبولیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نیویارک جیسے بڑے شہر میں بھی ایک عام پس منظر سے تعلق رکھنے والا، رنگ دار مسلمان نوجوان عوامی طاقت سے تاریخ بدل سکتا ہے۔وہ صرف ایک سیاستدان نہیں — بلکہ ایک نیا بیانیہ ہیں جو بتاتا ہے کہ امریکی خواب اب صرف چند ہاتھوں تک محدود نہیں رہا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں