اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) روس کی جانب سے تین دہائیوں بعد جوہری تجربات پر غور شروع کرنے کا اعلان محض عسکری فیصلہ نہیں۔
عالمی طاقتوں کے نئے دورِ کشمکش کی علامت ہے۔ صدر ولادی میر پوتن نے جو حکم جاری کیا ہے، وہ دراصل ایک سیاسی اور سفارتی پیغام ہے — یہ کہ روس اب دفاعی نہیں، برابری کی طاقت کے طور پر بات کرنا چاہتا ہے، اور اگر امریکہ راستہ بدلتا ہے تو روس بھی جواب میں راستہ تبدیل کرے گا۔یہ حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔ دنیا نے کئی بار دیکھا ہے کہ امریکہ کے کسی ایسے فیصلے کے بعد عالمی اسلحہ دوڑ میں تیزی آتی ہے، اور اب روس کا ردعمل بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔جوہری تجربات کا دوبارہ آغاز صرف روس اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی طاقتیں جب نئی دوڑ شروع کرتی ہیں تو دوسرے ممالک پیچھے نہیں رہتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر اس دور کے دہانے پر کھڑی ہے جب طاقت کا توازن میز پر نہیں، زیرِ زمین دھماکوں سے طے ہوتا تھا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ روس-امریکہ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں — یوکرین مسئلہ، منسوخ شدہ سمٹ، پابندیاں، اور اب جوہری دھمکیوں کے سائے۔ ایسے ماحول میں اگر دونوں ممالک اپنے جوہری ذخیرے کو فعال کرنے لگیں تو یہ صرف عسکری خطرہ نہیں بلکہ سفارتی نظام کی مکمل ناکامی ہوگی۔پوتن نے جو بات کہی کہ وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور دیگر ادارے جوہری تجربات کے بارے میں تجاویز تیار کریں — یہ محض تیاری نہیں، دباؤ کی حکمتِ عملی ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جو نیٹو، چین، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ سب کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
دنیا پہلے ہی نئی جنگوں، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ اس ماحول میں جوہری تجربات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو اس کے اثرات صرف عسکری نہیں، معاشی، اخلاقی اور سفارتی تباہی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جوہری جنگ جیتی نہیں جاتی — صرف بچی جاتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ کون سی طاقت کتنے ہتھیار رکھتی ہے، سوال یہ ہے کہ عقل اور جارحیت میں سے کون غالب آتا ہے؟
یہ لمحہ دنیا کے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر عالمی قیادت خاموش رہی، اگر سفارت کاری کمزور پڑی، تو ہم 1991 سے پہلے کے دور کی طرف نہیں—بلکہ اس سے بھی خطرناک دور کی طرف واپس جائیں گے۔دنیا کو آج کسی ایک ملک کے نہیں، پوری انسانی نسل کے مفاد میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔جوہری تجربے ایک بار پھر شروع ہوئے تو یہ صرف طاقت کا اظہار نہیں ہوگا — یہ انسانیت کی اجتماعی شکست ہوگی۔