کینیڈا،کنزرویٹو پارٹی کوا ایک اور بڑا دھچکا، رکن پارلیمنٹ میٹ جیٹرو مستعفی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، کیونکہ ایڈمنٹن ریوربینڈ سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ میٹ جینرو (Matt Jeneroux) نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ان کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب محض چند روز قبل کنزرویٹو پارٹی کے ایک اور رکن **کرس ڈینٹرماں (Chris d’Entremont) نے پارٹی چھوڑ کر لبرل جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس طرح ایک ہی ہفتے میں کنزرویٹو پارٹی کے دو ارکان کے جانے سے پارٹی قیادت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

میٹ جینرو نے اپنے بیان میں استعفے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک مشکل مگر درست فیصلہ تھا۔ وہ 2015ء سے ایڈمنٹن ریوربینڈ کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور پارلیمانی حلقوں میں ایک متحرک رکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اپنے بیان میں جینرو نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ کینیڈین عوام گزشتہ الیکشن میں پیئر پوئیلیور (Pierre Poilievre) کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی پر اعتماد کریں تاکہ ملک کی سمت بدلی جا سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے، تاہم انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے اراکین پارلیمنٹ کے لیے احترام اور تحسین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ان سب کی محنت مجھے اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ ایک مضبوط اور متحد کینیڈا کی کوششیں جاری ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے استعفے کے فیصلے سے اپوزیشن وِپ کو آگاہ کر دیا ہے، اور ان کی خواہش ہے کہ وہ ایوانِ زیریں سے ایک الوداعی خطاب بھی کر سکیں۔ جینرو نے کہا کہ اب ان کی تمام تر توجہ اپنے خاندان اور ذاتی ذمہ داریوں پر مرکوز ہوگی۔ ان کا کہنا تھا، "یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے درست ہے۔”میٹ جینرو نے بجٹ پر ہونے والے اہم ووٹ میں شرکت نہیں کی جسے وزیراعظم مارک کارنی نے اعتماد کا ووٹ قرار دیا تھا۔ تاہم لبرل حکومت یہ ووٹ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ ان کی غیر حاضری کو بعض سیاسی مبصرین نے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، حال ہی میں لبرل پارٹی میں شامل ہونے والے سابق کنزرویٹو رکن کرس ڈینٹرماں نے عندیہ دیا ہے کہ پارٹی کے اندر مزید ارکان بھی قیادت سے اختلافات کے باعث استعفے دے سکتے ہیں یا دوسری جماعتوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، کئی اراکین پیئر پوئیلیور کی قیادت کے انداز سے ناخوش ہیں اور اپنی سیاسی سمت پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
میٹ جینرو نے اپنے مکمل بیان میں کہا کہ وہ عوام اور اپنے حامیوں کے شکر گزار ہیں، لیکن انہوں نے درخواست کی کہ اس وقت کوئی بھی شخص **ان کے خاندان سے رابطہ نہ کرے**۔ انہوں نے کہا، "میں نے گزشتہ انتخابات میں یہ امید لے کر حصہ لیا تھا کہ کینیڈین عوام پیئر پوئیلیور کی قیادت پر اعتماد کریں گے۔ نتیجہ مختلف آیا، مگر میں تمام منتخب نمائندوں کا احترام کرتا ہوں جو ملک کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔”
ان کے استعفے کے بعد پارلیمنٹ میں کنزرویٹو پارٹی کی نشستوں میں مزید کمی واقع ہوگئی ہے، جبکہ وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت بجٹ ووٹ میں کامیابی کے بعد فی الحال **سیاسی استحکام** کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق، جینرو اور ڈینٹرماں کے متواتر انخلا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کے اندرونی اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے، اور آنے والے دنوں میں پارٹی کو مزید **سیاسی دباؤ اور قیادتی چیلنجز** کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں