اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) وزیراعظم مارک کارنی کی اقلیتی لبرل حکومت نے وفاقی بجٹ پر پہلا اعتماد کا ووٹ کامیابی سے حاصل کر لیا۔ تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہفتے کے اختتام سے قبل ایک اور اعتماد کے امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے بجٹ کے خلاف ذیلی ترمیم (Sub-Amendment) پیش کی گئی تھی، جسے لبرل حکومت نے اعتماد کا ووٹ (Confidence Vote) قرار دیا۔ یہ ترمیم دراصل بلو کئبیکوا (Bloc Québécois) کی اصل بجٹ ترمیم پر مزید اضافہ تھی۔ تاہم این ڈی پی (NDP) بلو کئبیکوا اور گرین پارٹی کی رہنما الزبتھ مے (Elizabeth May) نے لبرل حکومت کے حق میں ووٹ دے کر کنزرویٹو ترمیم کو شکست دی۔
کنزرویٹو پارٹی نے اس ترمیم میں اپنے **اخراجاتی اور ٹیکس پالیسی کے نکات شامل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر این ڈی پی کے عبوری رہنما ڈان ڈیوس (Don Davies) نے واضح اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس ترمیم کی مخالفت کرے گی۔ڈیوس نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی سرکاری اخراجات میں بڑی کٹوتیاں چاہتی ہے، جو معیشت کو نقصان پہنچائے گی۔ ہمارا مؤقف اس کے برعکس ہے — ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت کینیڈا کی معیشت میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، نہ کہ کمی کی۔”
اعتماد کا ووٹ جیتنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ > "یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ این ڈی پی نے درست فیصلہ کیا اور ملک کے مفاد میں ووٹ دیا۔”
> وزیراعظم نے بعد ازاں مزید تبصرہ کیے بغیر ایوان سے رخصت اختیار کر لی۔حکومت کے حق میں یہ ووٹ وقتی اطمینان ضرور لایا ہے، لیکن بحران مکمل طور پر ٹلا نہیں۔ جمعے کو بلو کئبیکوا کی اصل ترمیم پر دوسرا ووٹ ہونا ہے، جسے وزیراعظم کارنی نے بھی اعتماد کا ووٹ قرار دیا ہے۔ اگر حکومت اس مرحلے پر ناکام رہتی ہے تو پارلیمنٹ تحلیل ہونے اور قبل از وقت انتخابات کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس وقت لبرل پارٹی کے پاس 170 نشستیں ہیں، جو انہیں گزشتہ دنوں حاصل ہوئیں جب نوا اسکاٹیا کے رکنِ پارلیمنٹ کرس ڈینٹرماں (Chris d’Entremont) نے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر لبرلز میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی شمولیت کے بعد لبرلز کی پوزیشن نسبتاً مستحکم ہوئی ہے، تاہم حکومت کو پھر بھی **اعتماد کے ہر ووٹ پر اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔
بلو کئبیکوا اور کنزرویٹو پارٹی دونوں نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے صوبائی اور معاشی اہداف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دوسری جانب این ڈی پی نے تاحال بجٹ پر اپنا **حتمی مؤقف ظاہر نہیں کیااور کہا ہے کہ وہ مکمل دستاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، مارک کارنی کی حکومت نے اگرچہ پہلا امتحان پاس کر لیا ہے، مگر آئندہ دنوں میں پارلیمانی توازن برقرار رکھنا اس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ایک طرف بجٹ پر ہونے والی ووٹنگ حکومت کے لیے سیاسی استحکام کا امتحان ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن کی اندرونی صفوں میں تبدیلیاں — جیسے کنزرویٹو ارکان کے استعفے اور پارٹی چھوڑنے کے واقعات — ملکی سیاست میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں۔