اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی افواج نے کیریبین کے علاقے میں منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
اس آپریشن کی ہدایت صدر ٹرمپ نے دی تھی اور امریکی وزارتِ جنگ نے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران امریکی افواج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ کیریبین میں منشیات اسمگلنگ کرنے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی میں تین اسمگلرز ہلاک ہوئے۔ پیٹ ہیگستھ نے مزید کہاکہ“منشیات اسمگلنگ کرنے والوں کو روکنے کے لیے یہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی — اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اسمگلنگ بند کریں، ورنہ ہم انہیں مار ڈالیں گے۔”وزارتِ جنگ نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے تحت نافذ کیا گیا اور اس دوران امریکی اہلکار محفوظ رہے۔ حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں، اور کہا گیا ہے کہ تفتیش جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے آغاز سے اب تک کیریبین اور پیسفک ساحلوں پر امریکی افواج نے کم از کم 18 جہاز کو نشانہ بنایا ہے، اور ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات جنوب و وسطی امریکہ سے آنے والی منشیات کی ترسیل کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ بین الاقوامی قوانین، علاقائی خودمختاری اور انسانی حقوق کے تقاضے کس حد تک ملحوظِ خاطر رکھے گئے۔ ایسے حملوں میں غیر فوجی شہریوں کی حفاظت، شکار بننے والوں کی شناخت اور مقتولین کے ورثا کو انصاف دلانے کے تقاضے اہمیت رکھتے ہیں۔ وزارتِ جنگ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کارروائیاں ہدفِ مخصوص مسلح گروہوں اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کی جا رہی ہیں، مگر تفتیش کے نتائج اور شواہد عام نہ کیے گئے تو شکوک رہ سکتے ہیں۔
ابھی تک کسی بین الاقوامی یا علاقائی حکومت کی طرف سے اس واقعے پر باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے اور مزید کارروائیاں تب تک کی جائیں گی جب تک منشیات کی رسد کم نہ ہو جائے۔ مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں ممکنہ طور پر اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر سکتی ہیں، خاص طور پر اگر شہری ہلاکتوں یا قواعدِ جنگ کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے آئیں۔