اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد پاکستانی وفد واپس وطن روانہ ہوگیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ مذاکرات ختم ہوچکے ہیں اور اس وقت کسی اگلے دور کا کوئی پروگرام موجود نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد کا خالی ہاتھ واپس آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ثالثوں کو بھی افغانستان سے اب امید نہیں رہی۔
خواجہ آصف نے ترکی اور قطر کی طرف سے ثالثی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے خلوص کے ساتھ معاملے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی اور پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔
وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ افغان وفد مذاکرات کے دوران کہہ رہا تھا کہ ان کی بات کا صرف زبانی اعتبار کیا جائے جو ممکن نہیں بین الاقوامی مذاکرات میں تمام فیصلے تحریری طور پر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان وفد پاکستان کے موقف سے متفق تھا، لیکن تحریری شکل دینے پر راضی نہیں ہوا خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مذاکرات کے ختم ہونے کے بعد حتیٰ کہ ثالثوں نے بھی ہاتھ اٹھا لیے۔
اگر ثالثوں کو بھی امید ہوتی تو وہ پاکستانی وفد سے کہتے کہ مذاکرات جاری رکھیں اور پھر وہ رک جاتے وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ کیا گیا تو پاکستان اس کے مطابق ردعمل دے گا اور اگر وہاں سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو سیز فائر برقرار رہے گا۔
پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ نہ ہو۔خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ افغان طالبان کو زبانی یقین دہانیوں کے بجائے کسی تحریری معاہدے کا حصہ بننا چاہیے، تاکہ یہ دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے لوگ افغان طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہیں تو پاکستان کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے اور اگر پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے تو افغان حکومت کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہوا تھا، مگر دونوں طرف سے اختلافات کے باعث یہ دور بھی کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔