اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت اگر کسی بھی طرح دباؤ یا کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ سیاسی و آئینی نقصان کا سبب بنے گی۔ اسلام آباد میں پارلیمانی اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بارے میں ابھی کوئی حتمی مسودہ سامنے نہیں آیا، اور جب تک تفصیلی متن دستیاب نہیں ہوگا وہ اس پر گفتگو نہیں کریں گے۔
مولانا نے واضح کیا کہ اگر اس مسودے میں وہ شقیں شامل ہوں جو سابقہ 26ویں ترمیم سے نکالی گئی تھیں تو وہ ان کی کھل کر مخالفت کریں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئینی ترامیم اتفاقِ رائے سے ہونی چاہئیں، نہ کہ اکثریت کی گردان سے جو پارلیمنٹ اور جمہوریت کی شان کو مجروح کرے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم صوبوں کے حقوق کی ضمانت ہے اور اس میں کسی قسم کی کٹوتی قبول نہیں ہوگی؛ صوبوں کے حقوق کو کم کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔
مولانا نے کہا کہ سابقہ ترامیم طویل مشاورتی عمل کے بعد متفقہ طور پر منظور ہوئی تھیں اور ہر پارٹی نے ان میں حصہ لیا تھا، اس لیے نئے مسودے کا حجم دیکھا جائے گا تب کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے اسمبلی کی موجودہ حیثیت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو کبھی حقیقی عوامی نمائندہ نہیں مانا۔
انہوں نے مدارس کی رجسٹریشن، سود کے خاتمے اور دیگر معاملات پر حکومت کی خاموشی کی نشاندہی بھی کی اور کہا کہ یہ مسائل حل ہونے چاہئیں۔ مولانا کے بیان کے بعد جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ان کے گھر منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی و سینیٹرز نے شرکت کی۔