اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر عالمِ اسلام باہمی اتحاد میں ناکام رہا تو پوری امت کو غزہ اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں جیسی حالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف اپنی اپنی ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وقت آنے پر ہر ملک باری باری مشکل میں پھنس جائے گا۔ خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج علامہ اقبال کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے اور اقبال کے کلام اور پیغام کو زندہ رکھنا قوم کی ذمہ داری ہے، مگر بدقسمتی سے امت نے اقبال کے پیغام کو بھلا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امت اس وقت راستہ بھٹکی ہوئی نظر آتی ہے اور غزہ سے کشمیر تک جہاں ظلم ہو رہا ہے، وہاں مسلم ممالک کو متحد ہو کر مظلوموں کی آواز بننا چاہیے۔ (صوتی/بصری الفاظ بذاتِ خود موجودہ دور کی تلخیوں کی عکاسی کرتے ہیں)۔
وزیر دفاع نے خصوصی طور پر کہا کہ دنیا بھر میں غزہ کے مظلوم بچوں پر ہونے والے مظالم اور کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے جبر پر اگر اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بالآخر ہر ریاست کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے ایک فعال اور مربوط حکمتِ عملی کیلئے آئی او سی کے اجلاس یا ہنگامی نشست بلانے کی تجویز بھی دی ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بعض مسلم ممالک کے پاس عسکری صلاحیتیں ہونے کے باوجود وہ اتحاد اور مشترکہ ارادے کے فقدان کی وجہ سے مؤثر اقدام نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی اور سیاسی یکجہتی کے بغیر علاقائی تحفظ ممکن نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری خصوصاً اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ ایک مشترکہ محاذ اپنائیں تاکہ مظلوموں کی مدد کی جا سکے اور طاقتور فریقین کے خلاف مربوط جواب دیا جا سکے۔
ان بیانات کے دوران وزیر دفاع نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مظلوموں کیلئے آواز بلند کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ یکجہت رہیں۔ انہوں نے دعا بھی کی کہ اللہ تعالی ہمیں ہمت اور طاقت دے کہ ہم مظلوم بہن بھائیوں کی مدد کرسکیں اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے کی ہمت رکھیں۔حکومتی حلقوں میں خواجہ آصف کے اس بیان کو خارجہ پالیسی اور علاقائی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق عملی اقدامات اور سفارتی یکجہتی کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی اور بین الاقوامی سطح پر روابط کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
خواجہ محمد آصف قبل ازیں بھی متعدد مواقع پر فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں اور عالمی فورمز پر مسلم ممالک کی مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان بیانات کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ آیا مسلم دنیا میں کوئی ایسا فوری اور نتیجہ خیز مشترکہ اقدام سامنے آ پائے گا یا نہیں — کیونکہ وزیر دفاع کی وارننگ کے مطابق اگر ابھی اتحاد نہ ہوا تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔