اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کاپن ہیگن دنمارک کی حکومت نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال ممنوع ہوگا ۔
اس فیصلے کا مقصد بچوں کی ذہنی اور سماجی صحت کی حفاظت اور آن لائن تحفظ کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔نئی قانون سازی کے تحت، 13 سال سے کم عمر بچے صرف والدین کی اجازت کے ساتھ مخصوص پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ دنمارک کے وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ اس پابندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر یہ قدم ضروری ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ آسٹریلیا نے پچھلے سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، اور ڈنمارک یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس نوعیت کی قانون سازی کی۔
ماہرین کے مطابق ڈنمارک کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر بچوں کی ڈیجیٹل فلاح و بہبود اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت اور سماجی توازن بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور وہ انٹرنیٹ کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں گے۔