اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیلگری میں ہفتے کے روز شہریوں نے البرٹا کی متحدہ قدامت پسند حکومت کی جانب سے نان وِد اسٹینڈنگ کلاز کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا، جس کے ذریعے حکومت نے اساتذہ کی ہڑتال ختم کی تھی۔
وِد اسٹینڈنگ اَپ کے عنوان سے یہ ریلی کیلگری سٹی ہال کے باہر منعقد ہوئی، جس میں درجنوں شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور اس اقدام سے شہری آزادیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
یہ احتجاج غیر منافع بخش تنظیم البرٹا سیوک انٹیگریٹی پراجیکٹ اور مختلف عوامی گروہوں کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نان وِد اسٹینڈنگ کلاز کا استعمال صوبے کی جانب سے ان کے حقوق پر حملہ ہے اور یہ حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔
مقرر ڈاکٹر وکٹوریا بُکولٹز نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کے بھی حقوق اب محفوظ نہیں۔ اگر کوئی حکومت کے فیصلے سے اختلاف کرے اور احتجاج کرے تو حکومت اس کے حقوق معطل کر سکتی ہے، اور وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ مقصد نہیں تھا جس کے لیے نان وِد اسٹینڈنگ کلاز بنائی گئی تھی۔
یہ شق جو بہت کم استعمال کی جاتی ہے، وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی حکومت نے بل نمبر 2 پاس کرنے کے لیے استعمال کی، جس کے نتیجے میں تین ہفتے سے جاری اساتذہ کی ہڑتال ختم ہو گئی۔ اس قانون کے تحت حکومت کو کچھ آئینی حقوق کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔
ڈینیئل اسمتھ نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس اور اپنے ہفتہ وار ریڈیو شو میں اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ تنازع مہینوں تک چلتا رہے۔ ان کے مطابق صوبے میں اساتذہ کے ساتھ مذاکرات دو سطحوں پر ہوتے ہیں، ایک صوبائی سطح پر اور دوسرا 61 اسکول بورڈز کے ساتھ، اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ 61 علیحدہ ہڑتالیں شروع ہو جائیں۔البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اس قانون کو آئینی بنیادوں پر عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
ریلی میں شریک تجربہ کار استانی ایڈریانا مکروڈن، جو بیس سال سے زائد عرصے سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، نجی اور خودمختار اسکولوں کے لیے صوبائی فنڈنگ کے خلاف ایک پٹیشن کے لیے دستخط بھی جمع کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ البرٹا میں حکومت نجی تعلیم کو ملک کے کسی بھی صوبے کے مقابلے میں زیادہ فنڈ دیتی ہے، جبکہ عوامی تعلیم کے لیے سب سے کم فنڈ مختص کرتی ہے۔
اس احتجاج میں مختلف سماجی و شہری گروہوں کے لوگ بھی شامل ہوئے۔ ڈاکٹر بُکولٹز کے مطابق یہ ایک خالص عوامی تحریک ہے جو ان لوگوں سے شروع ہوئی ہے جو حالات سے ناخوش ہیں، ایک دوسرے کو تلاش کر رہے ہیں، اور تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو اگلے انتخابات تک یہ صوبے بھر میں ایک طاقتور تحریک بن سکتی ہے۔
البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ بل نمبر 2 پر عمل درآمد اس وقت تک روکا جائے جب تک اس کے آئینی چیلنج کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔