اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ کی جنگ بندی اور انتظامی معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکا نے غزہ کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں سے اسرائیل کو مؤثر طور پر الگ کر دیا ہے۔اسرائیلی اخبار *ٹائمز آف اسرائیل* کے مطابق، ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے غزہ کے لیے قائم کردہ **سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (CMCC)** میں اسرائیل کو ثانوی حیثیت دے دی ہے، اور تمام اہم فیصلے خود کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے** کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت اقوام متحدہ کی منظوری سے ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) غزہ کا کنٹرول سنبھالے گی اور اسرائیلی افواج وہاں سے واپس چلی جائیں گی۔رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فورس میں تقریباً 20 ہزار فوجی شامل ہوں گے، جنہیں دو سالہ مینڈیٹ دیا جائے گا، تاہم امریکا اپنے فوجی نہیں بھیجے گا۔واشنگٹن کی جانب سے ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ شمولیت پر بات چیت جاری ہے۔
ادھر اسرائیل نے ترک فوج کی ممکنہ شمولیت پر سخت اعتراض اٹھایا ہے، جب کہ عرب ممالک بھی حماس کے ساتھ ممکنہ براہِ راست تصادم کے خدشے سے محتاط ہیں۔دوسری جانب امریکا نے اپنے امن منصوبے کو اقوام متحدہ کی قرارداد میں شامل کر لیا ہے، جس کے مطابق غزہ کا مستقبل کا انتظام “پیس بورڈ” سے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ اصلاحاتی پروگرام مکمل کرے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ غزہ کے مستقبل پر اسرائیلی اثر و رسوخ محدو د ہوتا جا رہا ہے جبکہ امریکی کنٹرول میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔